عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
سرورِ قلبِ پیمبرﷺ حسینؑ زندہ باد
"خدا کے دین کا محور حسینؑ زندہ باد"
ہمارے ذکر کا محتاج تو نہیں ہے حسینؑ
کہ خود نبیؐ کے ہے لب پر حسین زندہ باد
کسی یزید کا ڈر ہے نہ خوف مرنے کا
مِرا ازل سے ہے رہبر حسینؑ زندہ باد
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
سرورِ قلبِ پیمبرﷺ حسینؑ زندہ باد
"خدا کے دین کا محور حسینؑ زندہ باد"
ہمارے ذکر کا محتاج تو نہیں ہے حسینؑ
کہ خود نبیؐ کے ہے لب پر حسین زندہ باد
کسی یزید کا ڈر ہے نہ خوف مرنے کا
مِرا ازل سے ہے رہبر حسینؑ زندہ باد
دل پیش کریں، پیش کریں جان وغیرہ
گر چاہیے کچھ کھیل کا سامان وغیرہ
یک طرفہ محبت میں ستم یہ بھی ہوا ہے
ہیں آپ مِرے درد سے انجان وغیرہ
گو اہلِ ہوس، اہلِ ستم، اہلِ جفا ہیں
صورت سے نظر آتے ہیں انسان وغیرہ
اک نام اب بھی دل پہ رقم ہے نہ جانے کیوں
سر اس کے در پہ آج بھی خم ہے نہ جانے کیوں
فہرست سے تو کاٹ دیا وقت نے وہ نام
اور آنکھ اُس کی یاد میں نم ہے نہ جانے کیوں
اب صورتیں بھی وقت کے سائے کی زد میں ہیں
اور جام جم میں عکس بھی کم ہے نہ جانے کیوں
اسے خبر ہے
کسے خبر کہ املتاس کے درختوں پر
سنہری پھول کھلے ہیں بہار آئی ہے
تمام شہر تو مصروفِ تجارت ہے
کسے خبر کہ املتاس کے درختوں پر
بہار آئی ہوئی تھی بہار جانے کو ہے
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
حسینؑ دیکھ رہے ہیں صفیں سجائے ہوئے
کوئی تو نکلے کفن کو علم🏴 بنائے ہوئے
تڑپنے لگتے ہو کیوں ذکرِ ابنِ حیدرؑ پر؟
علیؑ کے لال سے کتنا ہو خوف کھائے ہوئے
طلب نہیں ہے کسی قصر کی، نہ شاہی کی
ہمیں قبول ہیں یا رب وہ گھر جلائے ہوئے
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
زندگی ہے حسینؑ کے غم سے
میری ہر سانس ہے محرم سے
ؑآ رہی ہے صدا حسینؑ حسین
دل دھڑکنے لگا ہے ماتم سے
ہو گیا چاند کیا محرم کا؟
اشک بہنے لگے ہیں اک دم سے