Showing posts with label صفدر جعفری. Show all posts
Showing posts with label صفدر جعفری. Show all posts

Saturday, 22 July 2023

سرور قلب پیمبر حسین زندہ باد

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


سرورِ قلبِ پیمبرﷺ حسینؑ زندہ باد

"خدا کے دین کا محور حسینؑ زندہ باد"

ہمارے ذکر کا محتاج تو نہیں ہے حسینؑ

کہ خود نبیؐ کے ہے لب پر حسین زندہ باد

کسی یزید کا ڈر ہے نہ خوف مرنے کا

مِرا ازل سے ہے رہبر حسینؑ زندہ باد

Thursday, 8 September 2022

دل پیش کریں پیش کریں جان وغیرہ

 دل پیش کریں، پیش کریں جان وغیرہ

گر چاہیے کچھ کھیل کا سامان وغیرہ

یک طرفہ محبت میں ستم یہ بھی ہوا ہے

ہیں آپ مِرے درد سے انجان وغیرہ

گو اہلِ ہوس، اہلِ ستم، اہلِ جفا ہیں

صورت سے نظر آتے ہیں انسان وغیرہ

Saturday, 20 August 2022

اک نام اب بھی دل پہ رقم ہے نہ جانے کیوں

 اک نام اب بھی دل پہ رقم ہے نہ جانے کیوں

سر اس کے در پہ آج بھی خم ہے نہ جانے کیوں

فہرست سے تو کاٹ دیا وقت نے وہ نام

اور آنکھ اُس کی یاد میں نم ہے نہ جانے کیوں

اب صورتیں بھی وقت کے سائے کی زد میں ہیں

اور جام جم میں عکس بھی کم ہے نہ جانے کیوں

Tuesday, 2 August 2022

کسے خبر کہ املتاس کے درختوں پر سنہری پھول کھلے ہیں

 اسے خبر ہے


کسے خبر کہ املتاس کے درختوں پر

سنہری پھول کھلے ہیں بہار آئی ہے

تمام شہر تو مصروفِ تجارت ہے

کسے خبر کہ املتاس کے درختوں پر

بہار آئی ہوئی تھی بہار جانے کو ہے

Sunday, 31 July 2022

حسین دیکھ رہے ہیں صفیں سجائے ہوئے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


 حسینؑ دیکھ رہے ہیں صفیں سجائے ہوئے

کوئی تو نکلے کفن کو علم🏴 بنائے ہوئے

تڑپنے لگتے ہو کیوں ذکرِ ابنِ حیدرؑ پر؟

علیؑ کے لال سے کتنا ہو خوف کھائے ہوئے

طلب نہیں ہے کسی قصر کی، نہ شاہی کی

ہمیں قبول ہیں یا رب وہ گھر جلائے ہوئے

Saturday, 30 July 2022

زندگی ہے حسین کے غم سے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


 زندگی ہے حسینؑ کے غم سے

میری ہر سانس ہے محرم سے

ؑآ رہی ہے صدا حسینؑ حسین

دل دھڑکنے لگا ہے ماتم سے

ہو گیا چاند کیا محرم کا؟

اشک بہنے لگے ہیں اک دم سے