دل پیش کریں، پیش کریں جان وغیرہ
گر چاہیے کچھ کھیل کا سامان وغیرہ
یک طرفہ محبت میں ستم یہ بھی ہوا ہے
ہیں آپ مِرے درد سے انجان وغیرہ
گو اہلِ ہوس، اہلِ ستم، اہلِ جفا ہیں
صورت سے نظر آتے ہیں انسان وغیرہ
اس زلفِ گرہ گیر کے قیدی ہیں سبھی تو
کیا پیر، ولی، حضرتِ بھگوان وغیرہ
میں جان کا سودا تو ابھی کر نہیں سکتا
کیا آپ کے ہاں بکتے ہیں ایمان وغیرہ؟
صفدر نے تِرے عشق میں کیا کچھ نہیں چھوڑا
گھر بار، سجن اور مِرا ملتان وغیرہ
صفدر جعفری
No comments:
Post a Comment