زندگی ہے رواں، اداسی ہے
ہر نئی داستاں اداسی ہے
تشنہ خواہش کا بار ہے دل پر
روح میں جاوِداں اداسی ہے
لمحے لمحے کی آس ٹوٹ گئی
آرزو کا دھواں اداسی ہے
شب ڈھلے تنہا چاند بولا یہ
پوری عمر رواں اداسی ہے
گہری چپ کے محیط سائے ہیں
اور دل میں نہاں اداسی ہے
آنسوؤں کا خراج دیتے ہیں
عشق کی تو زبان اداسی ہے
کربلا میں جو جل چکے خیمے
ان کی بس رازداں اداسی ہے
بند آنکھوں سے اشک بہتے ہیں
یاد کا کارواں اداسی ہے
دھڑکنیں یوں تجھے پکارے ہیں
لوٹ آ میری جاں، اداسی ہے
رہنما خود بھٹک گئے فضہ
لوگ ہیں بے اماں، اداسی ہے
فضہ بتول
No comments:
Post a Comment