Thursday, 8 September 2022

قید الفت کا مزہ زلف گرہ گیر میں ہے

 قیدِ الفت کا مزہ زلفِ گرہ گیر میں ہے

بس یہی رنگ مِرے خواب کی تعبیر میں ہے

میٹھی میٹھی سی کسک اس کے بھی دل میں ہو گی

ہلکی ہلکی سی کھنک پاؤں کی زنجیر میں ہے

اس کو تحقیر کی نظروں سے نہ دیکھو یارو

رنگ کردار کا پنہاں مِری تصویر میں ہے

کو بہ کو ایک تجسس لیے پھرتا ہے مجھے

اب یہ دریوزہ گری ہی مِری تقدیر میں ہے

خون رو دیتا اگر تجھ پہ عیاں ہو جاتا

تو نے سمجھا ہی کیا جو کچھ مری تحریر میں ہے

تم بھی غازی کی طرح دل کے عوض جاں دے دو

عشق کامل کا مزہ بس اسی تدبیر میں ہے


یونس غازی

No comments:

Post a Comment