ہار جیت
کسی بیدرد لمحے میں
کہا تھا اس نے یہ مجھ سے
مجھے تم سے محبت ہے
محبت ہے بڑی طاقت
محبت جیت جائے گی
زمانہ ہار جائے گا
ہار جیت
کسی بیدرد لمحے میں
کہا تھا اس نے یہ مجھ سے
مجھے تم سے محبت ہے
محبت ہے بڑی طاقت
محبت جیت جائے گی
زمانہ ہار جائے گا
ذات کی شکست و ریخت کا سلسلہ تھما نہیں
رہِ حیات پر قدم ابھی تلک جما نہیں
پاؤں پاؤں چلنے میں پھر بھی کیا برائی ہے
سلسلہ فرات سے ابھی تلک کٹا نہیں
مرگ ناگہاں کا غم، بار دوش کیوں ہو دوست
ہما شما کوئی یہاں ابد تلک رکا نہیں
ڈھونڈ پائے نہ کبھی ہم دلِ انساں جاناں
ہائے کس سِیپ میں رکھا ہے یہ مرجاں جاناں
ہم کہاں بُھولے تِرا روئے نگاراں جاناں
روز سجتا ہے اسی سے تو شبستاں جاناں
شعلۂ یاد پہ رہنے لگا رقصاں جاناں
ہائے تڑپا ہے یہ کتنا دلِ ناداں جاناں
ہمرہی
زمیں سنسنا رہی ہے برستا لہو ہے
چلو رقص فرما ہوں تم بھی، ہم بھی
دوپٹہ اتارو، اتارو دوپٹہ
یونہی الجھا جاتا ہے قدموں سے اپنے
حیا آ رہی، یہ کیا بلا ہے، نئی اک مصیبت
مدفن
محبت تب تک محبت ہے
روح میں بے قراری سے
بدن میں سنسناہٹ ہو
تو خوشبو بھی کوئی اٹھے
مہک جب روح سے اٹھے
تو خوشبو سی کوئی گھیرے
جنوں میں آگ لگا دی ہے آشیانے کو
فلک بضد ہے مگر بجلیاں گرانے کو
ہمیں نے موڑ دیا اک نیا فسانے کو
ادھورا چھوڑ گئے تھے وہ آزمانے کو
گماں تلک نہ ہوا ہم کو دل کے جانے کا
’نجانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو‘