ذات کی شکست و ریخت کا سلسلہ تھما نہیں
رہِ حیات پر قدم ابھی تلک جما نہیں
پاؤں پاؤں چلنے میں پھر بھی کیا برائی ہے
سلسلہ فرات سے ابھی تلک کٹا نہیں
مرگ ناگہاں کا غم، بار دوش کیوں ہو دوست
ہما شما کوئی یہاں ابد تلک رکا نہیں
وقت کے بہاؤ میں، ساحلوں پہ دور تک
ریگزارِ دہر میں چین تو ملا نہیں
سنگ زنی گو کم نہیں ہم کو غرورِ عشق ہے
دریدہ تن ہوں تو ہوں سر کبھی جھکا نہیں
سر کے لیے ردا تو اک لے چکے خدا سے ہم
قرض اس احسان کا کسی طرح چُکا نہیں
خجالتوں کا یہ نچوڑ، دل یہ مانتا نہیں
پسینہ یوں بھی بہنے سے جاناں تیرا تھما نہیں
ریحانہ احمد جاناں
No comments:
Post a Comment