یہ نہیں, کثرتِ آلام سے جل جاتے ہیں
دل تمنائے خوش انجام سے جل جاتے ہیں
ان سے پوچھے کوئی مفہومِ حیاتِ انساں
مقبروں میں جو دِیے شام سے جل جاتے ہیں
ذکر آتا ہے مِرا اہلِ محبت میں اگر
میرے احباب مِرے نام سے جل جاتے ہیں
یہ نہیں, کثرتِ آلام سے جل جاتے ہیں
دل تمنائے خوش انجام سے جل جاتے ہیں
ان سے پوچھے کوئی مفہومِ حیاتِ انساں
مقبروں میں جو دِیے شام سے جل جاتے ہیں
ذکر آتا ہے مِرا اہلِ محبت میں اگر
میرے احباب مِرے نام سے جل جاتے ہیں
دامن حسن میں ہر اشک تمنا رکھ دو
دین کی راہ میں ہنگامۂ دنیا رکھ دو
ظلم کے سامنے اخلاص کا پردہ رکھ دو
نوک ہر خار پہ برگ گل رعنا رکھ دو
اپنی تاریخ کے اوراق الٹنا ہیں اگر
گلشن عیش پہ تپتا ہوا صحرا رکھ دو
بعد مدت کے خیال مے و مینا آیا
زندگی پھر مجھے جینے کا قرینہ آیا
ہر نفس زیست کے ماتھے پہ پسینہ آیا
یہ بھی جینا ہے کہ ایسا ہمیں جینا آیا
پھر سرِ بزم کوئی جام بکف آتا ہے
ترکِ توبہ کے تصور پہ پسینہ آیا
نگاہ حسن کی تاثیر بن گیا شاید
خیال ذہن میں زنجیر بن گیا شاید
وہ ایک نام جو تم نے مٹا دیا ہے ابھی
جبینِ وقت پہ تحریر بن گیا شاید
مِری نگاہ میں نا معتبر تھا جس کا وجود
وہ فاصلہ مِری تقدیر بن گیا شاید
کرم کے نام پہ ان کا عتاب چاہتے ہیں
نگاہِ شوق کو ہم کامیاب چاہتے ہیں
سکونِ دل میں غم و اضطراب چاہتے ہیں
ہم ایسے لوگ بھی کیا انقلاب چاہتے ہیں
چمن میں عہد بہاراں کی آرزو کر کے
قفس نصیب قفس پر عذاب چاہتے ہیں