Showing posts with label فطرت انصاری. Show all posts
Showing posts with label فطرت انصاری. Show all posts

Friday, 23 September 2022

یہ نہیں کثرت آلام سے جل جاتے ہیں

 یہ نہیں, کثرتِ آلام سے جل جاتے ہیں

دل تمنائے خوش انجام سے جل جاتے ہیں

ان سے پوچھے کوئی مفہومِ حیاتِ انساں

مقبروں میں جو دِیے شام سے جل جاتے ہیں

ذکر آتا ہے مِرا اہلِ محبت میں اگر

میرے احباب مِرے نام سے جل جاتے ہیں

Saturday, 10 September 2022

دامن حسن میں ہر اشک تمنا رکھ دو

 دامن حسن میں ہر اشک تمنا رکھ دو

دین کی راہ میں ہنگامۂ دنیا رکھ دو

ظلم کے سامنے اخلاص کا پردہ رکھ دو

نوک ہر خار پہ برگ گل رعنا رکھ دو

اپنی تاریخ کے اوراق الٹنا ہیں اگر

گلشن عیش پہ تپتا ہوا صحرا رکھ دو

Wednesday, 7 September 2022

بعد مدت کے خیال مے و مینا آیا

 بعد مدت کے خیال مے و مینا آیا

زندگی پھر مجھے جینے کا قرینہ آیا

ہر نفس زیست کے ماتھے پہ پسینہ آیا

یہ بھی جینا ہے کہ ایسا ہمیں جینا آیا

پھر سرِ بزم کوئی جام بکف آتا ہے

ترکِ توبہ کے تصور پہ پسینہ آیا

Thursday, 3 March 2022

نگاہ حسن کی تاثیر بن گیا شاید

نگاہ حسن کی تاثیر بن گیا شاید

خیال ذہن میں زنجیر بن گیا شاید

وہ ایک نام جو تم نے مٹا دیا ہے ابھی

جبینِ وقت پہ تحریر بن گیا شاید

مِری نگاہ میں نا معتبر تھا جس کا وجود

وہ فاصلہ مِری تقدیر بن گیا شاید

Friday, 6 August 2021

کرم کے نام پہ ان کا عتاب چاہتے ہیں

 کرم کے نام پہ ان کا عتاب چاہتے ہیں

نگاہِ شوق کو ہم کامیاب چاہتے ہیں

سکونِ دل میں غم و اضطراب چاہتے ہیں

ہم ایسے لوگ بھی کیا انقلاب چاہتے ہیں

چمن میں عہد بہاراں کی آرزو کر کے

قفس نصیب قفس پر عذاب چاہتے ہیں