Saturday, 10 September 2022

دامن حسن میں ہر اشک تمنا رکھ دو

 دامن حسن میں ہر اشک تمنا رکھ دو

دین کی راہ میں ہنگامۂ دنیا رکھ دو

ظلم کے سامنے اخلاص کا پردہ رکھ دو

نوک ہر خار پہ برگ گل رعنا رکھ دو

اپنی تاریخ کے اوراق الٹنا ہیں اگر

گلشن عیش پہ تپتا ہوا صحرا رکھ دو

جس سے وابستہ رہے ڈوبنے والے کی امید

ایک تنکا ہی سہی تم لبِ دریا رکھ دو

تم جو چاہو کہ مِرے لب بھی نہ کھلنے پائیں

میرے آگے مِری تقدیر کا چہرہ رکھ دو

روز روشن کی طرح ہوں گی منور راتیں

چند شعلے جو سرِ بزم تمنا رکھ دو

ایک آواز سی آتی ہے حرم سے شاید

میکدے والو ذرا ساغر و مینا رکھ دو


فطرت انصاری

No comments:

Post a Comment