Showing posts with label علی احسن. Show all posts
Showing posts with label علی احسن. Show all posts

Wednesday, 27 September 2023

ہوئی دستک کوئی آیا نہیں کوئی نہیں ہے

 ہوئی دستک کوئی آیا نہیں کوئی نہیں ہے

ہمیں اب پوچھنے والا کہیں کوئی نہیں ہے

بہت آباد ہیں یہ بے در و دیوار سے گھر

محل ایسے بھی ہیں جن میں کمیں کوئی نہیں ہے

جھجکتے ہیں اشاروں سے بھی دل کی بات کرتے

کہ شیشہ گھر میں رازوں کا امیں کوئی نہیں ہے

Friday, 21 April 2023

توڑ دیا زنجیروں کو اور صحرا صحرا دیکھ لیا

 توڑ دیا زنجیروں کو، اور صحرا صحرا دیکھ لیا

وحشی نے جب اک دن اپنے خواب میں رستہ دیکھ لیا

ایک دریچہ میرے دکھ سکھ بانٹنے کو آ پہنچا ہے

دیواروں کے بیچ جو مجھ کو سہما سہما دیکھ لیا

تجھ کو دیکھا ہے تو دیکھا ایک جہان نیا میں نے

لیکن اب تک سوچ رہا ہوں، جانے کیا کیا دیکھ لیا

Sunday, 9 April 2023

دریا ہے سو اپنی ہی روانی میں رہے گا

 دریا ہے سو اپنی ہی روانی میں رہے گا

پر درد تو کشتی کی کہانی میں رہے گا

یہ خواب نہیں آنکھ میں اک آگ لگی ہے

اور اس پہ ستم یہ ہے کہ پانی میں رہے گا

آیا ہے یہاں جو بھی بدن چھوڑ گیا ہے

کیا کوئی بھی اس خانۂ فانی میں رہے گا

Wednesday, 5 April 2023

کہانی راستوں کو کھوجتی ہے

 کہانی راستوں کو کھوجتی ہے


کہانی راستوں کو کھوجتی ہے

کبھی کھن کھنکھناتی چوڑیوں میں

کھی ہونٹوں پہ لکھی مسکراہٹ

کبھی پاؤں میں ہے زنجیر کوئی

کبھی آنکھوں سے نکلے موتیے ہیں

Saturday, 1 April 2023

خلا میں کن کی گونجی ہے صدا آہستہ آہستہ

 خلا میں کن کی گونجی ہے صدا آہستہ آہستہ

کئی رنگوں میں اک دریا بہا آہستہ آہستہ

مسلسل دائرے میں گھومتے ہیں سارے سیارے

وہ اک مرکز ہمیں ہے کھینچتا آہستہ آہستہ

اگر کشتی کوئی بھٹکے تو اس کو رہ دکھاتی ہے

کناروں سے ملاتی ہے ہوا آہستہ آہستہ

Monday, 7 March 2022

حفظ گل کے لیے رکھتے جو نگہباں کچھ اور

 حفظ گل کے لیے رکھتے جو نگہباں کچھ اور

ہو گیا پھولوں سے محروم گلستاں کچھ اور

لٹ کے سہمے ہوئے پودوں نے یہ سرگوشی کی

اب نگہبانوں پہ رکھیں گے نگہباں کچھ اور

شہر دل کچھ تو سجا لیں کہ بھرم رہ جائے

حسن‌ فاتح کو ہیں تاراج کے ارماں کچھ اور

Monday, 28 February 2022

نسل نو کے دانشور

 نسلِ نو کے دانشور


مِرے کپڑوں کو کیڑے کھا گئے 

تو میں نے یہ سوچا

مِرے ننگے بدن کا بھی یہی انجام ہونا ہے

مگر یہ جان کر میں کتنا خوش ہوں کتنا آسودہ

کہ میری روح میرا ذہن

Tuesday, 11 January 2022

ہماری سمت ہیں سارے ڈھلاؤ

 ہماری سمت ہیں سارے ڈھلاؤ

پڑا ہر سیل کا ہم پر دباؤ

ملے ہیں سادہ لوحی کی سزا میں

لٹیرے نا خدا،۔ کاغذ کی ناؤ

وہاں بھی وحشتیں تنہائیاں ہیں

ذرا صحرا سے واپس گھر تو جاؤ

Wednesday, 14 July 2021

پھر اندھیروں نے راستے روکے

 پھر اندھیروں نے راستے روکے

پھر نئے خضر ہیں، نئے دھوکے

غم کے ماروں کی سادگی دیکھو

مانگتے ہیں یہ ہر خوشی رو کے

ہم کہ جویائے عالمِ نو تھے

گھر کو لوٹے کہاں کہاں ہو کے

Friday, 30 April 2021

بڑھتا ہی جا رہا ہے گمانوں کا قافلہ

 بڑھتا ہی جا رہا ہے گُمانوں کا قافلہ 

ہمراہ تھا کبھی تِری یادوں کا قافلہ

گاڑی یہ وہ کہ جس کی بریکیں کوئی نہیں

کھلنے لگا ہے مجھ پہ خیالوں کا قافلہ

اب یہ فضا بھی ان کے موافق نہیں رہی

گاؤں سے چل پڑا ہے پرندوں کا قافلہ