ہوئی دستک کوئی آیا نہیں کوئی نہیں ہے
ہمیں اب پوچھنے والا کہیں کوئی نہیں ہے
بہت آباد ہیں یہ بے در و دیوار سے گھر
محل ایسے بھی ہیں جن میں کمیں کوئی نہیں ہے
جھجکتے ہیں اشاروں سے بھی دل کی بات کرتے
کہ شیشہ گھر میں رازوں کا امیں کوئی نہیں ہے
ہوئی دستک کوئی آیا نہیں کوئی نہیں ہے
ہمیں اب پوچھنے والا کہیں کوئی نہیں ہے
بہت آباد ہیں یہ بے در و دیوار سے گھر
محل ایسے بھی ہیں جن میں کمیں کوئی نہیں ہے
جھجکتے ہیں اشاروں سے بھی دل کی بات کرتے
کہ شیشہ گھر میں رازوں کا امیں کوئی نہیں ہے
توڑ دیا زنجیروں کو، اور صحرا صحرا دیکھ لیا
وحشی نے جب اک دن اپنے خواب میں رستہ دیکھ لیا
ایک دریچہ میرے دکھ سکھ بانٹنے کو آ پہنچا ہے
دیواروں کے بیچ جو مجھ کو سہما سہما دیکھ لیا
تجھ کو دیکھا ہے تو دیکھا ایک جہان نیا میں نے
لیکن اب تک سوچ رہا ہوں، جانے کیا کیا دیکھ لیا
دریا ہے سو اپنی ہی روانی میں رہے گا
پر درد تو کشتی کی کہانی میں رہے گا
یہ خواب نہیں آنکھ میں اک آگ لگی ہے
اور اس پہ ستم یہ ہے کہ پانی میں رہے گا
آیا ہے یہاں جو بھی بدن چھوڑ گیا ہے
کیا کوئی بھی اس خانۂ فانی میں رہے گا
کہانی راستوں کو کھوجتی ہے
کہانی راستوں کو کھوجتی ہے
کبھی کھن کھنکھناتی چوڑیوں میں
کھی ہونٹوں پہ لکھی مسکراہٹ
کبھی پاؤں میں ہے زنجیر کوئی
کبھی آنکھوں سے نکلے موتیے ہیں
خلا میں کن کی گونجی ہے صدا آہستہ آہستہ
کئی رنگوں میں اک دریا بہا آہستہ آہستہ
مسلسل دائرے میں گھومتے ہیں سارے سیارے
وہ اک مرکز ہمیں ہے کھینچتا آہستہ آہستہ
اگر کشتی کوئی بھٹکے تو اس کو رہ دکھاتی ہے
کناروں سے ملاتی ہے ہوا آہستہ آہستہ
حفظ گل کے لیے رکھتے جو نگہباں کچھ اور
ہو گیا پھولوں سے محروم گلستاں کچھ اور
لٹ کے سہمے ہوئے پودوں نے یہ سرگوشی کی
اب نگہبانوں پہ رکھیں گے نگہباں کچھ اور
شہر دل کچھ تو سجا لیں کہ بھرم رہ جائے
حسن فاتح کو ہیں تاراج کے ارماں کچھ اور
نسلِ نو کے دانشور
مِرے کپڑوں کو کیڑے کھا گئے
تو میں نے یہ سوچا
مِرے ننگے بدن کا بھی یہی انجام ہونا ہے
مگر یہ جان کر میں کتنا خوش ہوں کتنا آسودہ
کہ میری روح میرا ذہن
ہماری سمت ہیں سارے ڈھلاؤ
پڑا ہر سیل کا ہم پر دباؤ
ملے ہیں سادہ لوحی کی سزا میں
لٹیرے نا خدا،۔ کاغذ کی ناؤ
وہاں بھی وحشتیں تنہائیاں ہیں
ذرا صحرا سے واپس گھر تو جاؤ
پھر اندھیروں نے راستے روکے
پھر نئے خضر ہیں، نئے دھوکے
غم کے ماروں کی سادگی دیکھو
مانگتے ہیں یہ ہر خوشی رو کے
ہم کہ جویائے عالمِ نو تھے
گھر کو لوٹے کہاں کہاں ہو کے
بڑھتا ہی جا رہا ہے گُمانوں کا قافلہ
ہمراہ تھا کبھی تِری یادوں کا قافلہ
گاڑی یہ وہ کہ جس کی بریکیں کوئی نہیں
کھلنے لگا ہے مجھ پہ خیالوں کا قافلہ
اب یہ فضا بھی ان کے موافق نہیں رہی
گاؤں سے چل پڑا ہے پرندوں کا قافلہ