Tuesday, 11 January 2022

ہماری سمت ہیں سارے ڈھلاؤ

 ہماری سمت ہیں سارے ڈھلاؤ

پڑا ہر سیل کا ہم پر دباؤ

ملے ہیں سادہ لوحی کی سزا میں

لٹیرے نا خدا،۔ کاغذ کی ناؤ

وہاں بھی وحشتیں تنہائیاں ہیں

ذرا صحرا سے واپس گھر تو جاؤ

نہ جانے کب یہ آگ آ جائے باہر

کہ سینوں میں دہکتے ہیں الاؤ

ہوا کا جس طرف رخ ہو گیا ہے

اسی جانب ہے شاخوں کا جھکاؤ

زمیں کیا آسماں بھی منتظر ہے

حصار ذات سے باہر تو آؤ

کہیں گے لوگ احسن تم کو پاگل

محبت ہے تو یہ تہمت اٹھاؤ


احسن علی

علی احسن

No comments:

Post a Comment