نہ ان کو اور نہ ان کی انجمن کو یاد کرتے ہیں
یہاں ہم صرف یارانِ کہن کو یاد کرتے ہیں
صبا کے ساتھ بوئے گل بھی آج آئی ہے زنداں تک
چمن والے اسیرانِ چمن کو یاد کرتے ہیں
نہ جانے مصر کی تاریکیوں میں کب بہار آۓ
کئی یعقوب بوئے پیرہن کو یاد کرتے ہیں
نہ ان کو اور نہ ان کی انجمن کو یاد کرتے ہیں
یہاں ہم صرف یارانِ کہن کو یاد کرتے ہیں
صبا کے ساتھ بوئے گل بھی آج آئی ہے زنداں تک
چمن والے اسیرانِ چمن کو یاد کرتے ہیں
نہ جانے مصر کی تاریکیوں میں کب بہار آۓ
کئی یعقوب بوئے پیرہن کو یاد کرتے ہیں
چاند کی بڑھیا
ماں سے اک بچے نے پوچھا
چاند میں یہ دھبا کیسا ہے
ماں یہ بولی؛
چندا بیٹے
جس کو تم دھبا کہتے ہو، وہ تو اک پاگل بڑھیا ہے
کٹ گئی رات
مگر
رات ابھی باقی ہے
حسرت دید ابھی زندہ ہے
دل دھڑکتا ہے ابھی
شوق ملاقات ابھی زندہ ہے
تشبیب
تجھ کو چاند نہیں کہہ سکتا
کیونکہ یہ چاند تو اس دھرتی کے چار طرف ناچا کرتا ہے
میں البتہ دیوانہ ہوں
تیرے گرد پھرا کرتا ہوں
جیسے زمیں کے گرد یہ چاند اور سورج کے گرد اپنی زمیں ناچا کرتی ہے
لیکن میں بھی چاند نہیں ہوں
اس سفر میں نیند ایسی کھو گئی
ہم نہ سوئے رات تھک کر سو گئی
دامنِ موجِ صبا خالی ہوا
بُوئے گل دشتِ وفا میں کھو گئی
ہائے اس پرچھائیوں کے شہر میں
دل سی ایک زندہ حقیقت کھو گئی