Showing posts with label راہی معصوم رضا. Show all posts
Showing posts with label راہی معصوم رضا. Show all posts

Monday, 22 April 2024

نہ ان کو اور نہ ان کی انجمن کو یاد کرتے ہیں

 نہ ان کو اور نہ ان کی انجمن کو یاد کرتے ہیں

یہاں ہم صرف یارانِ کہن کو یاد کرتے ہیں

صبا کے ساتھ بوئے گل بھی آج آئی ہے زنداں تک

چمن والے اسیرانِ چمن کو یاد کرتے ہیں

نہ جانے مصر کی تاریکیوں میں کب بہار آۓ

کئی یعقوب بوئے پیرہن کو یاد کرتے ہیں

Tuesday, 14 March 2023

چاند کی بڑھیا ماں سے اک بچے نے پوچھا

 چاند کی بڑھیا


ماں سے اک بچے نے پوچھا

چاند میں یہ دھبا کیسا ہے

ماں یہ بولی؛

چندا بیٹے

جس کو تم دھبا کہتے ہو، وہ تو اک پاگل بڑھیا ہے

Sunday, 1 November 2020

کٹ گئی رات مگر رات ابھی باقی ہے

 کٹ گئی رات

مگر

رات ابھی باقی ہے

حسرت دید ابھی زندہ ہے

دل دھڑکتا ہے ابھی

شوق ملاقات ابھی زندہ ہے

Friday, 16 October 2020

تجھ کو چاند نہیں کہہ سکتا

 تشبیب


تجھ کو چاند نہیں کہہ سکتا

کیونکہ یہ چاند تو اس دھرتی کے چار طرف ناچا کرتا ہے

میں البتہ دیوانہ ہوں

تیرے گرد پھرا کرتا ہوں

جیسے زمیں کے گرد یہ چاند اور سورج کے گرد اپنی زمیں ناچا کرتی ہے

لیکن میں بھی چاند نہیں ہوں

Monday, 28 September 2020

اس سفر میں نیند ایسی کھو گئی

 اس سفر میں نیند ایسی کھو گئی

ہم نہ سوئے رات تھک کر سو گئی

دامنِ موجِ صبا خالی ہوا

بُوئے گل دشتِ وفا میں کھو گئی

ہائے اس پرچھائیوں کے شہر میں

دل سی ایک زندہ حقیقت کھو گئی

Tuesday, 3 January 2017

مجنوں کی سچائی کتنی سارا تو افسانہ ہے

مجنوں کی سچائی کتنی سارا تو افسانہ ہے
شہرت جس کو راس آ جائے وہ کیسا دیوانہ ہے
میرے رقیب سندیسہ لائے اپنے قد کی بلندی پر
سرو قدوں، شمشاد قدوں میں ان کا آنا جانا ہے
اپنا سر وہ کیسے جھکائے اس ساگر کی چوکھٹ پر
گنگا جی کے تٹ پر یارو جس جوگی کا ٹھکانہ ہے

پیاسی راتیں کاٹی ہیں دن بھی گزارے الجھن کے

پیاسی راتیں کاٹی ہیں دن بھی گزارے الجھن کے
جیٹھ سے ہم نے ہار نہ مانی، گھر نہ گئے ہم ساون کے
چارہ گر بھی شاید اپنے زخموں سے گھبراتے ہیں
میری غزل پر کوئی نہ جھُوما، قصے تھے گھر آنگن کے
ان سے پوچھو فصلِ جنوں کی قیمت کیسے دیتے ہیں
بادل بن کر ناچ رہے ہیں ٹکڑے جن کے دامن کے

Monday, 26 September 2016

کیا کروں طنز بنی جاتی ہے اب پیار کی بات

کیا کروں طنز بنی جاتی ہے اب پیار کی بات
دل کے ویرانے میں شہرِ لب و رخسار کی بات
رات جب ڈھلتی ہے، کیا جانے بکھرنا کیا ہے
وہ نہ سمجھی، تِری زلفوں کے گرفتار کی بات
اے شکستِ درِ زِنداں! یہ نظر آتا ہے کی بات
اب کے شاید نہ کریں ہم رسن و دار کی بات

خوشبو نکل پڑی ہے کھلے سر یہ کیا ہوا

خوشبو نکل پڑی ہے کھُلے سر، یہ کیا ہُوا
فصلِ جنوں کی خیر، کوئی حادثہ ہوا
اک آرزو سے کم نہیں ہر ماہ وش، مگر
مل جائے جس کرن کو دریچہ کھُلا ہوا
آباد تھا یہ دل تو نہ مہماں ہُوا کوئی
ویران ہو گیا ہے تو اک راستہ ہوا

Saturday, 17 September 2016

دل کے زخم چھپاؤ گے کب تک کب تک بات بناؤ گے

دل کے زخم چھپاؤ گے کب تک، کب تک بات بناؤ گے
راہیؔ جی! لوگوں نے جو پوچھا، کس کا نام بتاؤ گے؟
اپنے پاؤں کے چھالے دیکھو، صحرا تو سب دیکھ لیے
چلتے چلتے تھک گئے ہو گے، بولو کب گھر جاؤ گے
میں کہتا ہوں اپنے آنکھوں کے دروازے بند کرو
ورنہ پھر سپنے دیکھو گے، پھر ان سے شرماؤ گے

سچ تو یہ ہے اپنی وحشت ناکام ہوئی

سچ تو یہ ہے اپنی وحشت ناکام ہوئی
اس کی گلی یارو! ناحق بدنام ہوئی
رفتہ، رفتہ، وقت کا نِشتر تیز ہوا
دِھیرے دِھیرے درد کی دولت عام ہوئی
مشکل سے اپنے غم پر ہنسنا آیا
مشکل سے یہ چنچل ہرنی رام ہوئی

مضمحل ہارا ہوا تنہا ملا

مضمحل ہارا ہوا، تنہا مِلا
جو مِلا اس شہر میں ایسا مِلا
کھِنچ گئے ہیں اس قدر اب فاصلے
اپنے پائیں باغ میں صحرا مِلا
کل جن آنکھوں میں اُگا کرتے تھے خواب
آج ان میں کل کا اندیشہ مِلا

Tuesday, 16 August 2016

میں جو وحشت میں اکیلا نکلا

میں جو وحشت میں اکیلا نکلا
میرے پیچھے مِرا صحرا نکلا
جب جنوں والوں کا قصہ نکلا
سب میں اک درد کا رشتہ نکلا
میرے ہاتھوں میں لکیروں کے سوا
اے منجم! یہ بتا کیا نکلا؟

آرزوئیں ہیں پریشان، نجانے کیا ہو

آرزوئیں ہیں پریشان، نجانے کیا ہو
راستے ہو گئے ویران، نجانے کیا ہو
اپنے سائے کی طرف دیکھ کے ڈر جاتا ہے
اتنا تنہا نہ تھا انسان،۔۔۔۔ نجانے کیا ہو
سہمے سہمے سے ہیں کچھ لوگ تمناؤں سے
کہ ابھی جان نہ پہچان،۔۔ نجانے کیا ہو

ہر ایک راستہ ویراں ہو گر تو کیا کیجئے

ہر ایک راستہ ویراں ہو گر تو کیا کیجئے
امید سر بہ گریباں ہو گر تو کیا کیجئے
ہزار بار کریں لوگ عہدِ ترکِ وفا
قریب کوچۂ جاناں ہو گر تو کیا کیجئے
جو کھل کے روئیں تو دامن بھی اور دوست بھی ہیں
گھٹا گھٹا کوئی طوفاں ہو گر تو کیا کیجئے

Friday, 6 May 2016

ہم کیا جانیں قصہ کیا ہے ہم ٹھہرے دیوانے لوگ

ہم کیا جانیں قصہ کیا ہے ہم ٹھہرے دیوانے لوگ 
اس بستی کے بازاروں میں روز کہیں افسانے لوگ
یادوں سے بچنا مشکل ہے، ان کو کیسے سمجھائیں
ہجر کے اس صحرا تک ہم کو آتے ہیں سمجھانے لوگ
کون یہ جانے دیوانے پر کیسی سخت گزرتی ہے
آپس میں کچھ کہہ کر ہنستے ہیں جانے پہچانے لوگ

رنگ ہوا سے چھوٹ رہا ہے موسم کیف و مستی ہے

رنگ ہوا سے چھوٹ رہا ہے، موسمِ کیف و مستی ہے
پھر بھی یہاں سے حدِ نظر تک پیاسوں کی اک بستی ہے
دل جیسا انمول رتن تو جب بھی گیا،۔ بے دام گیا
جان کی قیمت کیا مانگیں، یہ چیز تو خیر اب سستی ہے
دل کی کھیتی سُوکھ رہی ہے، کیسی یہ برسات ہوئی
خوابوں کے بادل آتے ہیں، لیکن آگ برستی ہے

Monday, 2 May 2016

جتنے وحشی ہیں چلے جاتے ہیں صحرا کی طرف

جتنے وحشی ہیں چلے جاتے ہیں صحرا کی طرف
کوئی جاتا ہی نہیں خیمۂ لیلیٰ کی طرف
ہم حریفوں کی تمنا میں مرے جاتے ہیں
انگلیاں اٹھنے لگیں دیدۂ بِینا کی طرف
ہر طرف صبح نے اک جال بچھا رکھا ہے
اوس کی بوند کہاں جاتی ہے دریا کی طرف

حدِ نگاہ تلک کیا دکھائی دیتا ہے

حدِ نگاہ تلک کیا دکھائی دیتا ہے
بس ایک پیاس کا صحرا دکھائی دیتا ہے
 پیا تھا اس نے کبھی زہرِ آگہی شاید
یہ آسمان جو نیلا دکھائی دیتا ہے
ہوائیں ننگی چٹانوں پہ رقص کرتی ہیں
وہ کس طرح کا جزیرہ دکھائی دیتا ہے

دوستو جان پہ بن آئی ہے

دوستو! جان پہ بن آئی ہے
یہ بڑے شہر کی تنہائی ہے
سر ہتھیلی پر اگا ہی لے گا
جس نے جینے کی قسم کھائی ہے
مارنا بھی نہیں آتا جن کو
ان کو بھی شوقِ مسیحائی ہے