Tuesday, 3 January 2017

پیاسی راتیں کاٹی ہیں دن بھی گزارے الجھن کے

پیاسی راتیں کاٹی ہیں دن بھی گزارے الجھن کے
جیٹھ سے ہم نے ہار نہ مانی، گھر نہ گئے ہم ساون کے
چارہ گر بھی شاید اپنے زخموں سے گھبراتے ہیں
میری غزل پر کوئی نہ جھُوما، قصے تھے گھر آنگن کے
ان سے پوچھو فصلِ جنوں کی قیمت کیسے دیتے ہیں
بادل بن کر ناچ رہے ہیں ٹکڑے جن کے دامن کے
مجھ کو بھی اس بادِ صبا سے ملنے کا اک موقع دو
میرے لیے بھی شاید کچھ پیغام آئے ہوں گلشن کے

راہی معصوم رضا

No comments:

Post a Comment