Showing posts with label مائل دہلوی. Show all posts
Showing posts with label مائل دہلوی. Show all posts

Sunday, 17 April 2022

واعظ پئے ہوئے ہوں خدا کے لیے نہ چھیڑ

 واعظ پئے ہوئے ہوں خدا کیلئے نہ چھیڑ

دھڑکا مٹا ہوا ہے عذاب و ثواب کا

یا رب انہیں بہشت میں جانا نہ ہو نصیب

جو لطف اٹھا چکے ہیں شب ماہتاب کا

کیا کیا بگڑ رہے ہیں وہ بن بن کے بزم میں

آشوبِ روزگار ہے عالم عتاب کا

Tuesday, 25 January 2022

پھر آ گئی اک بت پہ طبیعت کو ہوا کیا

 پھر آ گئی اک بت پہ طبیعت کو ہُوا کیا

ٹلتی ہی نہیں سر سے مصیبت کو ہوا کیا

محروم پھر آیا درِ مے خانہ سے واعظ

رندان قدح خوار کی ہمت کو ہوا کیا

مقبول دعا ہو نہ اثر آہ و فغاں میں

اس دور میں تاثیرِ محبت کو ہوا کیا

Tuesday, 21 December 2021

آپ کیا ایک ستمگار بنے بیٹھے ہیں

 آپ کیا ایک ستم گار بنے بیٹھے ہیں

غیر بھی تو مِرے غمخوار بنے بیٹھے ہیں

واعظوں کی بھی یہ توقیر ہے اللہ اللہ

پاسبان در خمار🍷 بنے بیٹھے ہیں

چشم ہے آب رواں سینے میں داغوں کی بہار

ہم بھی اک تختۂ گلزار بنے بیٹھے ہیں

Sunday, 19 December 2021

تم لے کے اپنے ہاتھ میں خنجر نہ دیکھنا

 تم لے کے اپنے ہاتھ میں خنجر نہ دیکھنا

اور دیکھنا تو تن پہ مِرے سر نہ دیکھنا

دشمن بھی میرے ساتھ ہی آتا ہے بزم میں

تم کو قسم ہے آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا

گر دیکھتے نہیں ہو ندامت سے جور کی

تم اب تو دیکھ لو دمِ محشر نہ دیکھنا

Saturday, 18 December 2021

باتیں ہیں واعظوں کی عذاب و ثواب کیا

 باتیں ہیں واعظوں کی عذاب و ثواب کیا

دو دن کی زندگی میں حساب و کتاب کیا

چاہی وفائے وعدہ، تو پایا جواب کیا

ہاں کہیۓ تو یہ آپ نے دیکھا ہے خواب کیا

دل میں غضب کے جوش ہیں توبہ کی خیر ہو

کرتی ہے دیکھیۓ یہ شبِ ماہتاب کیا

Thursday, 4 November 2021

اے ستمگر نہیں دیکھا جاتا

 اے ستم گر نہیں دیکھا جاتا

زخم دل پر نہیں دیکھا جاتا

ہم سے زاہد کو برابر اپنے

لبِ کوثر نہیں دیکھا جاتا

دشت کی جس میں کوئی بات نہ ہو

ہم سے وہ گھر نہیں دیکھا جاتا