واعظ پئے ہوئے ہوں خدا کیلئے نہ چھیڑ
دھڑکا مٹا ہوا ہے عذاب و ثواب کا
یا رب انہیں بہشت میں جانا نہ ہو نصیب
جو لطف اٹھا چکے ہیں شب ماہتاب کا
کیا کیا بگڑ رہے ہیں وہ بن بن کے بزم میں
آشوبِ روزگار ہے عالم عتاب کا
واعظ پئے ہوئے ہوں خدا کیلئے نہ چھیڑ
دھڑکا مٹا ہوا ہے عذاب و ثواب کا
یا رب انہیں بہشت میں جانا نہ ہو نصیب
جو لطف اٹھا چکے ہیں شب ماہتاب کا
کیا کیا بگڑ رہے ہیں وہ بن بن کے بزم میں
آشوبِ روزگار ہے عالم عتاب کا
پھر آ گئی اک بت پہ طبیعت کو ہُوا کیا
ٹلتی ہی نہیں سر سے مصیبت کو ہوا کیا
محروم پھر آیا درِ مے خانہ سے واعظ
رندان قدح خوار کی ہمت کو ہوا کیا
مقبول دعا ہو نہ اثر آہ و فغاں میں
اس دور میں تاثیرِ محبت کو ہوا کیا
آپ کیا ایک ستم گار بنے بیٹھے ہیں
غیر بھی تو مِرے غمخوار بنے بیٹھے ہیں
واعظوں کی بھی یہ توقیر ہے اللہ اللہ
پاسبان در خمار🍷 بنے بیٹھے ہیں
چشم ہے آب رواں سینے میں داغوں کی بہار
ہم بھی اک تختۂ گلزار بنے بیٹھے ہیں
تم لے کے اپنے ہاتھ میں خنجر نہ دیکھنا
اور دیکھنا تو تن پہ مِرے سر نہ دیکھنا
دشمن بھی میرے ساتھ ہی آتا ہے بزم میں
تم کو قسم ہے آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا
گر دیکھتے نہیں ہو ندامت سے جور کی
تم اب تو دیکھ لو دمِ محشر نہ دیکھنا
باتیں ہیں واعظوں کی عذاب و ثواب کیا
دو دن کی زندگی میں حساب و کتاب کیا
چاہی وفائے وعدہ، تو پایا جواب کیا
ہاں کہیۓ تو یہ آپ نے دیکھا ہے خواب کیا
دل میں غضب کے جوش ہیں توبہ کی خیر ہو
کرتی ہے دیکھیۓ یہ شبِ ماہتاب کیا
اے ستم گر نہیں دیکھا جاتا
زخم دل پر نہیں دیکھا جاتا
ہم سے زاہد کو برابر اپنے
لبِ کوثر نہیں دیکھا جاتا
دشت کی جس میں کوئی بات نہ ہو
ہم سے وہ گھر نہیں دیکھا جاتا