آپ کیا ایک ستم گار بنے بیٹھے ہیں
غیر بھی تو مِرے غمخوار بنے بیٹھے ہیں
واعظوں کی بھی یہ توقیر ہے اللہ اللہ
پاسبان در خمار🍷 بنے بیٹھے ہیں
چشم ہے آب رواں سینے میں داغوں کی بہار
ہم بھی اک تختۂ گلزار بنے بیٹھے ہیں
پوچھتے ہیں وہ مجھی سے یہ غضب تو دیکھو
آپ بھی طالبِ دیدار بنے بیٹھے ہیں
دلربائی کے یہ انداز غضب ہیں تیرے
کہ ہوس پیشہ خریدار بنے بیٹھے ہیں
مائل دہلوی
No comments:
Post a Comment