عارفانہ کلام نعتیہ کلام
شانِ سرکارؐ میں جو نعت نہیں لکھ سکتا
اس قلم سے میں کوئی بات نہیں لکھ سکتا
منتہیٰ جسﷺ کی بلندی کا سنگِ پا نہ ہُوا
مثلِ آدم تو میں وہ ذات نہیں لکھ سکتا
جس کی انگلی نے کئے چاند کے ٹکڑے ٹکڑے
کیا اسے مظہرِ عجابات نہیں لکھ سکتا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
شانِ سرکارؐ میں جو نعت نہیں لکھ سکتا
اس قلم سے میں کوئی بات نہیں لکھ سکتا
منتہیٰ جسﷺ کی بلندی کا سنگِ پا نہ ہُوا
مثلِ آدم تو میں وہ ذات نہیں لکھ سکتا
جس کی انگلی نے کئے چاند کے ٹکڑے ٹکڑے
کیا اسے مظہرِ عجابات نہیں لکھ سکتا
تین قطعات
یار من! تجھ سا کوئی یار زمانے میں نہیں
تیرے ہر انگ سے خوشبوئے وفا پھوٹتی ہے
اے جگر تاب! جگر پاش! نگاہیں تو ہٹا
میرے سینے میں محبت کی وبا پھوٹتی ہے
کمیل جعفری
حسنِ کامل کی مالک اک ایسی ہے زن
جس کے قہقوں میں پنہاں ہے اک بانکپن
جس کی مہکار ،مہکا رہی ہے پوَن
جس کی خلقت ہے تخلیق کا اوجِ فن
آنسہ ہے، محبت ہے جس کا بدن
اور توبہ شکن جس کا چاہِ ذقن
حد درجہ تیری یاد سے پہلو تہی بھی کی
اور اس ستم شعار سے ہم آغوشی بھی کی
میں خانماں خراب وہ خانہ بدوش ہوں
جس نے کہ شہرِیار سے ہمسائیگی بھی کی
ہر شب فراقِ یار کو بستر پہ ڈال کر
فہم و خیال و فکر میں ہمبستری بھی کی
جانچ لینا، فِروتنی تو نہیں
فقر میں ہی قلندری تو نہیں
صرف کہہ دینا ہم تمہارے ہیں
کوئی اندازِ دلبری تو نہیں
سر جھکا کر جو مان لیتے ہو
اس کے احکام نادری تو نہیں
بچھڑ کے تجھ سے زمانے کو میں نے عاق کیا
سبھو کیا، ہاں، گریبان بس نہ چاک کیا
یہ تیرے جانے پہ دل مطمئن بھلا کیوں ہے
میں کر ہی سکتا تھا کیا، جو کیا سو خاک کیا
میرے وجود کی تو کرچیاں بھی اب نہ ملیں
کچھ اس طرح میرا تُو نے حساب باق کیا