Showing posts with label کمیل جعفری. Show all posts
Showing posts with label کمیل جعفری. Show all posts

Friday, 9 July 2021

شان سرکار میں جو نعت نہیں لکھ سکتا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


شانِ سرکارؐ میں جو نعت نہیں لکھ سکتا

اس قلم سے میں کوئی بات نہیں لکھ سکتا

منتہیٰ جسﷺ کی بلندی کا سنگِ پا نہ ہُوا

مثلِ آدم تو میں وہ ذات نہیں لکھ سکتا

جس کی انگلی نے کئے چاند کے ٹکڑے ٹکڑے

کیا اسے مظہرِ عجابات نہیں لکھ سکتا

Thursday, 8 July 2021

میرے سینے میں محبت کی وبا پھوٹتی ہے

 تین قطعات


یار من! تجھ سا کوئی یار زمانے میں نہیں

تیرے ہر انگ سے خوشبوئے وفا پھوٹتی ہے

اے جگر تاب! جگر پاش! نگاہیں تو ہٹا

میرے سینے میں محبت کی وبا پھوٹتی ہے


کمیل جعفری

Friday, 18 June 2021

حسن کامل کی مالک اک ایسی ہے زن

حسنِ کامل کی مالک اک ایسی ہے زن

جس کے قہقوں میں پنہاں ہے اک بانکپن

جس کی مہکار ،مہکا رہی ہے پوَن

جس کی خلقت ہے تخلیق کا اوجِ فن

آنسہ ہے، محبت ہے جس کا بدن

اور توبہ شکن جس کا چاہِ ذقن

Thursday, 17 June 2021

حد درجہ تیری یاد سے پہلو تہی بھی کی

 حد درجہ تیری یاد سے پہلو تہی بھی کی

اور اس ستم شعار سے ہم آغوشی بھی کی

میں خانماں خراب وہ خانہ بدوش ہوں

جس نے کہ شہرِیار سے ہمسائیگی بھی کی

ہر شب فراقِ یار کو بستر پہ ڈال کر

فہم و خیال و فکر میں ہمبستری بھی کی

Tuesday, 15 June 2021

جانچ لینا فروتنی تو نہیں

 جانچ لینا، فِروتنی تو نہیں

فقر میں ہی قلندری تو نہیں

صرف کہہ دینا ہم تمہارے ہیں

کوئی اندازِ دلبری تو نہیں

سر جھکا کر جو مان لیتے ہو

اس کے احکام نادری تو نہیں

Monday, 14 June 2021

بچھڑ کے تجھ سے زمانے کو میں نے عاق کیا

 بچھڑ کے تجھ سے زمانے کو میں نے عاق کیا

سبھو کیا، ہاں، گریبان بس نہ چاک کیا

یہ تیرے جانے پہ دل مطمئن بھلا کیوں ہے

میں کر ہی سکتا تھا کیا، جو کیا سو خاک کیا

میرے وجود کی تو کرچیاں بھی اب نہ ملیں

کچھ اس طرح میرا تُو نے حساب باق کیا