حسنِ کامل کی مالک اک ایسی ہے زن
جس کے قہقوں میں پنہاں ہے اک بانکپن
جس کی مہکار ،مہکا رہی ہے پوَن
جس کی خلقت ہے تخلیق کا اوجِ فن
آنسہ ہے، محبت ہے جس کا بدن
اور توبہ شکن جس کا چاہِ ذقن
دل کی ہر ایک دھڑکن کا ہے یہ بیان
اس کے قہقوں نے بخشا ہے جیون کو دان
کمیل جعفری
No comments:
Post a Comment