ذکر تیرا چھڑا تو ایسا لگا
شہد کا ذائقہ گُھلا مجھ میں
تیری آواز کانوں میں گونجی
اور برسنے لگی گھٹا مجھ میں
میری آنکھوں میں تُو چمکتا ہے
تُو دھڑکتا ہے بے بہا مجھ میں
میں جدھر دیکھتی ہوں بس تُو ہے
اور رہتا ہے جا بجا مجھ میں
جس گھڑی یاد تیری گھیرتی ہے
ضبط بھر دیتا ہے خدا مجھ میں
پھر کوئی درد راس آیا نہیں
جب تیرا غم ہوا بپا مجھ میں
تم بلاؤ تو میں دکھاؤں غرور
صاحب ایسی نہیں انا مجھ میں
صائمہ یوسفزئی
No comments:
Post a Comment