میرے حصے کا بھی جی لینا میری دوست
میں اب وداع لیتا ہوں
میری دوست میں اب وداع لیتا ہوں
میں نے اک نظم لکھنی چاہی تھی
جسے تم تا عمر پڑھتی رہ سکو
تم
تم یہ سب کچھ بھول جانا میری دوست
میرے حصے کا بھی جی لینا میری دوست
میں اب وداع لیتا ہوں
میری دوست میں اب وداع لیتا ہوں
میں نے اک نظم لکھنی چاہی تھی
جسے تم تا عمر پڑھتی رہ سکو
تم
تم یہ سب کچھ بھول جانا میری دوست
ریڈیو کو کہو
قسم اٹھا کر کہے
دھرتی اگر ماں ہوتی ہے تو کس کی
یہ پاکستانیوں کی کیا ہوئی
اور ہندوستانیوں کی کیا لگی
وہ ریڈیو نہیں سنتے
کُھلی چِٹھی
معشوقہ کو خط لکھنے والو
اگر تمہاری قلم کی نوک بانجھ ہے
تو کاغذوں کی توہین مت کرو
تاروں کی طرف دیکھ کر
انقلاب کی باتیں کرنے والو
پنجابی نظم کا اردو ترجمہ
سب سے خطرناک ہوتا ہے، ہمارے سپنوں کا مر جانا
سب سے خطرناک ہوتا ہے، مردہ شانتی کا بھر جانا
تڑپ نہ ہونا، سب کچھ سہہ لینا
گھر سے نکلنا کام پر اور کام سے لوٹ کر گھر جانا
سب سے خطرناک وہ گھڑی ہوتی ہے
ہمارے لہو کو عادت ہے
موسم نہیں دیکھتا، محفل نہیں دیکھتا
زندگی کے جشن شروع کر دیتا ہے
سُولی کے گیت چھیڑ دیتا ہے
شبد ہیں کہ پتھر پر بہہ بہہ کر گھِس جاتے ہیں
لہو ہے کہ تب بھی گاتا ہے
ہم لڑیں گے ساتھی
اُداس موسم کے خلاف
ہم لڑیں گے ساتھی غلام خواہشات کے لیے
ہم لڑیں گے ساتھی
جب بندوق ناں ہوئی، تو تلوار ہو گی
جب تلوار ناں ہوئی، لڑنے کی لگن ہو گی
چڑیاں دا چمبہ
اڑ کر کہیں نہیں جائے گا
یہیں کہیں پگڈنڈیوں سے گھاس کاٹے گا
کچی پکی روٹیاں لایا لے جایا کرے گا
اور میلا دوپٹہ بھگو کر
لُو سے جُھلسے ہوئے چہرے پہ پھیرا کرے گا