گہری نیلی شام کا منظر لکھنا ہے
تیری ہی زلفوں کا دفتر لکھنا ہے
کئی دنوں سے بات نہیں کی اپنوں سے
آج ضروری خط اپنے گھر لکھنا ہے
شدت پر ہے ہرے بھرے پتوں کی پیاس
صحرا صحرا خون سمندر لکھنا ہے
گہری نیلی شام کا منظر لکھنا ہے
تیری ہی زلفوں کا دفتر لکھنا ہے
کئی دنوں سے بات نہیں کی اپنوں سے
آج ضروری خط اپنے گھر لکھنا ہے
شدت پر ہے ہرے بھرے پتوں کی پیاس
صحرا صحرا خون سمندر لکھنا ہے
درد کی رات گزرتی ہے، مگر آہستہ
وصل کی دھوپ نکھرتی ہے مگر آہستہ
آسماں دور نہیں، ابر ذرا نیچے ہے
روشنی یوں بھی بکھرتی ہے مگر آہستہ
تم نے مانگی ہے دعا ٹھیک ہے خاموش رہو
بات پتھر میں اترتی ہے، مگر آہستہ
جب بھی تم کو سوچا ہے
سارا منظر بدلا ہے
جاتے جاتے یہ کس نے
نام پوَن پر لکھا ہے
انگاروں کے موسم میں
جسموں کا سا میلہ ہے
حصار جسم سے آگے نکل گیا ہوتا
جنوں کی آگ میں دیوانہ جل گیا ہوتا
حیات ایک سہی کائنات ایک سہی
ہمارے عہد کا انساں بدل گیا ہوتا
ہوا کے زور نے پتھر اڑا دئیے ہوتے
تمام شہر کو طوفاں نگل گیا ہوتا
جب میں اور تو نڈھال ہو جاتے ہیں
سانسیں پھولتی ہیں
اور ہم پہلے ڈھیلے اور پھر سرد پڑ جاتے ہیں
اور ہمارے چہرے اپنی اصلی حالت پر آ جاتے ہیں
تو بے اختیار سوچتا ہوں
ہمارا کیا ہو گا اگر ساتھ چھوٹ گیا؟