Showing posts with label فاروق نازکی. Show all posts
Showing posts with label فاروق نازکی. Show all posts

Wednesday, 30 June 2021

گہری نیلی شام کا منظر لکھنا ہے

 گہری نیلی شام کا منظر لکھنا ہے

تیری ہی زلفوں کا دفتر لکھنا ہے

کئی دنوں سے بات نہیں کی اپنوں سے

آج ضروری خط اپنے گھر لکھنا ہے

شدت پر ہے ہرے بھرے پتوں کی پیاس

صحرا صحرا خون سمندر لکھنا ہے

Tuesday, 29 June 2021

درد کی رات گزرتی ہے مگر آہستہ

 درد کی رات گزرتی ہے، مگر آہستہ

وصل کی دھوپ نکھرتی ہے مگر آہستہ

آسماں دور نہیں، ابر ذرا نیچے ہے

روشنی یوں بھی بکھرتی ہے مگر آہستہ

تم نے مانگی ہے دعا ٹھیک ہے خاموش رہو

بات پتھر میں اترتی ہے، مگر آہستہ

Monday, 28 June 2021

جب بھی تم کو سوچا ہے

 جب بھی تم کو سوچا ہے

سارا منظر بدلا ہے

جاتے جاتے یہ کس نے

نام پوَن پر لکھا ہے

انگاروں کے موسم میں

جسموں کا سا میلہ ہے

Saturday, 20 March 2021

حصار جسم سے آگے نکل گیا ہوتا

حصار جسم سے آگے نکل گیا ہوتا

جنوں کی آگ میں دیوانہ جل گیا ہوتا

حیات ایک سہی کائنات ایک سہی

ہمارے عہد کا انساں بدل گیا ہوتا

ہوا کے زور نے پتھر اڑا دئیے ہوتے

تمام شہر کو طوفاں نگل گیا ہوتا

Sunday, 29 November 2020

ہمارا کیا ہو گا اگر ساتھ چھوٹ گیا

 جب میں اور تو نڈھال ہو جاتے ہیں

سانسیں پھولتی ہیں

اور ہم پہلے ڈھیلے اور پھر سرد پڑ جاتے ہیں

اور ہمارے چہرے اپنی اصلی حالت پر آ جاتے ہیں

تو بے اختیار سوچتا ہوں

ہمارا کیا ہو گا اگر ساتھ چھوٹ گیا؟