Saturday, 20 March 2021

حصار جسم سے آگے نکل گیا ہوتا

حصار جسم سے آگے نکل گیا ہوتا

جنوں کی آگ میں دیوانہ جل گیا ہوتا

حیات ایک سہی کائنات ایک سہی

ہمارے عہد کا انساں بدل گیا ہوتا

ہوا کے زور نے پتھر اڑا دئیے ہوتے

تمام شہر کو طوفاں نگل گیا ہوتا

میں اپنی نیند کسی گھر میں کیسے بھول آتا

وہ میرے خواب کے سانچے میں ڈھل گیا ہوتا

نہ پوچھ کیسا تھا منظر تِری جدائی کا

فرشتہ ہوتا تو وہ بھی دہل گیا ہوتا


فاروق نازکی

No comments:

Post a Comment