Showing posts with label علی یاسر. Show all posts
Showing posts with label علی یاسر. Show all posts

Wednesday, 21 December 2022

دور کرنے کو تری زلف کا خم اتریں گے

 دور کرنے کو تِری زلف کا خم اتریں گے 

آسمانوں کے ستارے کوئی دم اتریں گے

حوصلہ اور ذرا حوصلہ اے سنگ بدست 

وقت آئے گا تو خود شاخ سے ہم اتریں گے

ایک امید پہ تعمیر کیا ہے گھر کو 

اس کے آنگن میں کبھی تیرے قدم اتریں گے

Tuesday, 8 December 2020

آنکھ سے خواب لے گیا اور وہ اشک بھر گیا

 آنکھ سے خواب لے گیا اور وہ اشک بھر گیا

عشق تھا یا خمار تھا وقت کے ساتھ اتر گیا

خوشبو کو تازگی ملی، رنگوں کو روشنی ملی

آئی بہار تو ہر ایک پھول سنور سنور گیا

شام ہوئی تو اس کی یاد روح میں جلوہ گر ہوئی

ہم ہوئے در بدر تو کیا کوئی تو اپنے گھر گیا

Tuesday, 25 August 2020

پوری ہوئی جو ہجر کی میعاد آوے گا

پوری ہوئی جو ہجر کی میعاد آوے گا
قیدِ انا سے ہو کے وہ آزاد آوے گا
اس بت سے جی لگا نہ لگا کیا مجھے ولے
پھر کیا کرے گا جب وہ تجھے یاد آوے گا
میں تو کروں ہوں عمر بھر اک دشت کا سفر
یا ہو گا جب وہ قریۂ آباد آوے گا

کچھ اس طرح وہ دعا و سلام کر کے گیا

کچھ اس طرح وہ دعا و سلام کر کے گیا 
مِری طرف ہی رخ انتقام کر کے گیا 
جہاں میں آیا تھا انساں محبتیں کرنے 
جو کام کرنا نہیں تھا وہ کام کر کے گیا 
اسیر ہوتے گئے بادلِ ناخواستہ لوگ 
غلام کرنا تھا اس نے، غلام کر کے گیا

مری سرشت میں دھوکا نہیں محبت ہے

ثبوتِ عشق، جمالِ یقیں محبت ہے
مِری سرشت میں دھوکا نہیں، محبت ہے
گلِ خلوص مہکتا ہے میری صورت میں
مِرا مزاج، مِری سرزمیں محبت ہے
سب اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں یہاں
مِرے خیال میں سب سے حسیں محبت ہے

Monday, 24 August 2020

جو زندگی تھی اسی زندگی نے قتل کیا

ہمیں خوشی کی تڑپ تھی، خوشی نے قتل کِیا
جو زندگی تھی اسی زندگی نے قتل کیا
ضرور آدم و حوا کو رنج ہوتا ہے
جب آدمی کو کسی آدمی نے قتل کیا
ہزار خواہشِ اظہارِ عشق ادھوری رہی
گلِ سخن کو مِرے اجنبی نے قتل کیا

میں ہوں صاف گو کسی پیش و پس میں نہ آؤں گا

میں ہوں صاف گو کسی پیش و پس میں نہ آؤں گا
تِرا وہم ہے، تِری دسترس میں نہ آؤں گا
مجھے روک لو،۔ میں چلا گیا، تو چلا گیا
کسی طور پھر میں تمہارے بس میں نہ آؤں گا
اسے کھینچ لایا پھر ایک دانۂ رزق ہی
وہ جو کہہ رہا تھا کہ میں قفس میں نہ آؤں گا

آب میں ذائقۂ شیر نہیں ہو سکتا

آب میں ذائقۂ شِیر نہیں ہو سکتا 
خواب تو خواب ہے تعبیر نہیں ہو سکتا 
مجھ کو پابندِ سلاسل کوئی جتنا کر لے 
پر مِرا عزم تو زنجیر نہیں ہو سکتا
ہر طرف غُل ہے شہنشاہ کی مرضی کے بغیر
اب کوئی لفظ بھی تحریر نہیں ہو سکتا

Monday, 1 June 2015

مستقل درد کی پوشاک پہن کر آئے

مستقل درد کی پوشاک پہن کر آئے
کوچۂ یار سے ہم خاک پہن کر آئے
اب یہ گستاخ نگاہوں سے شکایت کیسی
پیرہن آپ ہی بے باک پہن کر آئے
دل جو ٹکڑوں میں بٹا ہے تو عجب کیا اس میں
ہم لبادہ بھی تو صد چاک پہن کر آئے

سچ ہے عالی جناب ہوتا نہیں

سچ ہے عالی جناب ہوتا نہیں
دوستوں میں حساب ہوتا نہیں
جس کا ہر ایک پَل سہانا ہو
زندگی کوئی خواب ہوتا نہیں
جو حقیقت ہو صاف کہتا ہوں
مجھ سے پاسِ حجاب ہوتا نہیں

Tuesday, 10 July 2012

دونوں کے ساتھ یہ ہوا عمر محال دی گئی

دونوں کے ساتھ یہ ہوا، عمرِ محال دی گئی
عشق کو سادگی ملی، حُسن کو چال دی گئی
پہلے سے اونچا ہو گیا، سَرو کا سَر غرور سے
سَرو کے ساتھ جب تِرے قد کی مثال دی گئی
تیری نگاہ جب پڑی، دل سے گئے ہزار لوگ
تیرا اشارہ جب ہوا، جان نکال دی گئی

Thursday, 28 June 2012

کل تمہیں کوئی مصیبت بھی تو پڑ سکتی ہے

کل تمہیں کوئی مصیبت بھی تو پڑ سکتی ہے
 ہم فقیروں کی ضرورت بھی تو پڑ سکتی ہے
 اتنی عُجلت میں بچھڑنے کا ارادہ نہ کرو
 پھر ملاقات میں مدت بھی تو پڑ سکتی ہے
 آدمی زاد ہوں مجھ کو نہ فرشتہ سمجھو
 لب کشا ہونے کی ہمت بھی تو پڑ سکتی ہے