دور کرنے کو تِری زلف کا خم اتریں گے
آسمانوں کے ستارے کوئی دم اتریں گے
حوصلہ اور ذرا حوصلہ اے سنگ بدست
وقت آئے گا تو خود شاخ سے ہم اتریں گے
ایک امید پہ تعمیر کیا ہے گھر کو
اس کے آنگن میں کبھی تیرے قدم اتریں گے
دور کرنے کو تِری زلف کا خم اتریں گے
آسمانوں کے ستارے کوئی دم اتریں گے
حوصلہ اور ذرا حوصلہ اے سنگ بدست
وقت آئے گا تو خود شاخ سے ہم اتریں گے
ایک امید پہ تعمیر کیا ہے گھر کو
اس کے آنگن میں کبھی تیرے قدم اتریں گے
آنکھ سے خواب لے گیا اور وہ اشک بھر گیا
عشق تھا یا خمار تھا وقت کے ساتھ اتر گیا
خوشبو کو تازگی ملی، رنگوں کو روشنی ملی
آئی بہار تو ہر ایک پھول سنور سنور گیا
شام ہوئی تو اس کی یاد روح میں جلوہ گر ہوئی
ہم ہوئے در بدر تو کیا کوئی تو اپنے گھر گیا