کچھ اس طرح وہ دعا و سلام کر کے گیا
مِری طرف ہی رخ انتقام کر کے گیا
جہاں میں آیا تھا انساں محبتیں کرنے
جو کام کرنا نہیں تھا وہ کام کر کے گیا
اسیر ہوتے گئے بادلِ ناخواستہ لوگ
جو درد سوئے ہوئے تھے وہ ہو گئے بیدار
یہ معجزہ بھی مِرا خوش خرام کر کے گیا
ہے زندگی بھی وہی جو ہو دوسروں کیلئے
وہ محترم ہوا، جو احترام کر کے گیا
یہ سرزمیں ہے جلال و جمال و عظمت کی
ہے خوش نصیب یہاں جو قیام کر کے گیا
ہے کون شاعرِ خوش فکر، کون ہے فنکار
غزل بتائے گی اس میں نام کر کے گیا
اثر ہوا، نہ ہوا بزم پر علی یاسر
کلام کرنا تھا میں نے کلام کر کے گیا
علی یاسر
No comments:
Post a Comment