ماں باپ ہیں، اِک پیڑ ہے، قرآن رکھا ہے
گھر میں جو ضروری ہے وہ سامان رکھا ہے
لگتا ہی نہیں دل کو سخن اور کسی کا
بس میر تقی میر کا دیوان رکھا ہے
پھر کون بلاتا ہے مجھے پیار کی جانب
یہ کس نے مِرے کمرے میں گُلدان رکھا ہے
ماں باپ ہیں، اِک پیڑ ہے، قرآن رکھا ہے
گھر میں جو ضروری ہے وہ سامان رکھا ہے
لگتا ہی نہیں دل کو سخن اور کسی کا
بس میر تقی میر کا دیوان رکھا ہے
پھر کون بلاتا ہے مجھے پیار کی جانب
یہ کس نے مِرے کمرے میں گُلدان رکھا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بستی حسین کی ہے بسائے گئے ہیں ہم
کرنے کو ذکر اس کا بنائے گئے ہیں ہم
زہرہؑ کے لاڈلے کا یہ رُتبہ عظیم ہے
سجدوں میں ان کے در پہ جُھکائے گئے ہیں ہم
افضل عبادتوں سے یہ میرا حسینؑ ہے
سجدوں کو روک کر یہ بتائے گئے ہیں ہم
خواب آنکھوں پہ بار ہو گئے ہیں
جاگیے! دن کے چار ہو گئے ہیں
اک گلی کی مُسافتوں میں ہم
ہر گلی کا غُبار ہو گئے ہیں
لو! بچھڑنے کا وقت آن پڑا
سارے قول و قرار ہو گئے ہیں
لوگ تو کہہ دیتے ہیں کہ خاک مسئلہ ہے
مگر یار خفا ہو تو ٹھیک ٹھاک مسئلہ ہے
کون کس حال میں ہے یہ بھید نہیں کُھلتا
روحوں پر جسموں کی پوشاک مسئلہ ہے
بھوک خدا کی شناخت بدل کر رکھ دیتی ہے
تم نہیں سمجھو گے یہ کتنا سفاک مسئلہ ہے