Showing posts with label جرار حیدر. Show all posts
Showing posts with label جرار حیدر. Show all posts

Wednesday, 19 February 2025

ماں باپ ہیں اک پیڑ ہے قرآن رکھا ہے

 ماں باپ ہیں، اِک پیڑ ہے، قرآن رکھا ہے

گھر میں جو ضروری ہے وہ سامان رکھا ہے

لگتا ہی نہیں دل کو سخن اور کسی کا

بس میر تقی میر کا دیوان رکھا ہے

پھر کون بلاتا ہے مجھے پیار کی جانب

یہ کس نے مِرے کمرے میں گُلدان رکھا ہے

Friday, 14 June 2024

بستی حسین کی ہے بسائے گئے ہیں ہم

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بستی حسین کی ہے بسائے گئے ہیں ہم

کرنے کو ذکر اس کا بنائے گئے ہیں ہم

زہرہؑ کے لاڈلے کا یہ رُتبہ عظیم ہے

سجدوں میں ان کے در پہ جُھکائے گئے ہیں ہم

افضل عبادتوں سے یہ میرا حسینؑ ہے

سجدوں کو روک کر یہ بتائے گئے ہیں ہم

Thursday, 13 June 2024

خواب آنکھوں پہ بار ہو گئے ہیں

 خواب آنکھوں پہ بار ہو گئے ہیں

جاگیے! دن کے چار ہو گئے ہیں

اک گلی کی مُسافتوں میں ہم

ہر گلی کا غُبار ہو گئے ہیں

لو! بچھڑنے کا وقت آن پڑا

سارے قول و قرار ہو گئے ہیں

Tuesday, 11 October 2022

لوگ تو کہہ دیتے ہیں کہ خاک مسئلہ ہے

 لوگ تو کہہ دیتے ہیں کہ خاک مسئلہ ہے

مگر یار خفا ہو تو ٹھیک ٹھاک مسئلہ ہے

کون کس حال میں ہے یہ بھید نہیں کُھلتا

روحوں پر جسموں کی پوشاک مسئلہ ہے

بھوک خدا کی شناخت بدل کر رکھ دیتی ہے

تم نہیں سمجھو گے یہ کتنا سفاک مسئلہ ہے