Wednesday, 21 October 2026

گفتگو کو بدل کے دیکھتے ہیں

 گُفتگو کو بدل کے دیکھتے ہیں

اس کے لہجے میں ڈھل دیکھتے ہیں

ماہرِ حُسن بھی مجھے اب تو

سوچ اپنی بدل دیکھتے ہیں

رازِ خُوشبو کا جاننے کے لیے

لوگ گُل کو مسل دیکھتے ہیں

وہ نہ بدلا ہے اور نہ بدلے گا

ہم ہی خُود کو بدل دیکھتے ہیں

حاصلِ عِشق ہاتھ مَلنا ہے

تو چلو ہاتھ مَل دیکھتے ہیں

شعلۂ طُور ہے انیتا وہ

لوگ اس کو سنبھل دیکھتے ہیں


انیتا سونی

No comments:

Post a Comment