Showing posts with label نعمان شفیق. Show all posts
Showing posts with label نعمان شفیق. Show all posts

Sunday, 28 April 2024

یوں محبت سے مجھے میرا جنوں دیکھتا ہے

 یوں محبت سے مجھے میرا جنوں دیکھتا ہے

جیسے اک باپ مَرے بیٹے کا منہ دیکھتا ہے

خوف و امید کی تخلیط سے تکتا ہوں تجھے

سر کٹے جسم کو جوں کھولتا خوں دیکھتا ہے

پہلے تصویر بناتا ہے کسی قبر کی پھر

لکھ کے پہلو میں وہ اٹھ یار میں ہوں دیکھتا ہے

Wednesday, 24 April 2024

ہم لوگ تیری بات ترے بعد مان کر

 ہم لوگ، تیری بات، تِرے بعد مان کر

بس چُپ ہیں، غم کو قدرتی افتاد مان کر

اب دیکھیے کہ ساتھ نبھاتا ہے کتنے مِیل

چل تو پڑا ہے وہ مِری فریاد مان کر

تم سب نے اُتنا رونا ہے، جتنا کہ میں کہوں

مجھ کو اصولِ گریہ کا استاد مان کر

Saturday, 13 April 2024

منافقت نہ دکھائے خوشی خوشی نکلے

 مُنافقت نہ دِکھائے، خُوشی خُوشی نِکلے

جِسے نِکلنا ہے دل سے مِرے، ابھی نکلے

تُو جس کو چاہے اُسے اور سے محبت ہو

اور اُس کی پہلی محبت ہی آخری نکلے

تُو میرے شعر پہ ہنستا ہے، یہ دُعا ہے مِری

کہ تیرے بچوں کی نس نس سے شاعری نکلے

Thursday, 13 October 2022

عجب گھٹن تھی وہاں پر لہٰذا نکلے اور

عجب گُھٹن تھی وہاں پر لہٰذا نکلے اور

تمام رات تلاشے پھر اپنے جیسے اور

تمہارے دل کی طرف اور رستے جاتے تھے

کسی نے ہم کو مہیا کیے تھے نقشے اور

پرائے دیس میں اے دل کہاں سے لاؤں وہ ماں

جو ماتھا چُوم کے کہتی ہے؛ اور کھا لے اور

Saturday, 9 October 2021

آسمانوں سے زمیں کی طرف آتے ہوئے ہم

آسمانوں سے زمیں کی طرف آتے ہوئے ہم

ایک مجمع کے لیے شعر سناتے ہوئے ہم

کس گماں میں ہیں تِرے شہر کے بھٹکے ہوئے لوگ

دیکھنے والے پلٹ کر نہیں جاتے ہوئے ہم

کیسی جنت کے طلب گار ہیں تو جانتا ہے

تیری لکھی ہوئی دنیا کو مٹاتے ہوئے ہم