یوں محبت سے مجھے میرا جنوں دیکھتا ہے
جیسے اک باپ مَرے بیٹے کا منہ دیکھتا ہے
خوف و امید کی تخلیط سے تکتا ہوں تجھے
سر کٹے جسم کو جوں کھولتا خوں دیکھتا ہے
پہلے تصویر بناتا ہے کسی قبر کی پھر
لکھ کے پہلو میں وہ اٹھ یار میں ہوں دیکھتا ہے
یوں محبت سے مجھے میرا جنوں دیکھتا ہے
جیسے اک باپ مَرے بیٹے کا منہ دیکھتا ہے
خوف و امید کی تخلیط سے تکتا ہوں تجھے
سر کٹے جسم کو جوں کھولتا خوں دیکھتا ہے
پہلے تصویر بناتا ہے کسی قبر کی پھر
لکھ کے پہلو میں وہ اٹھ یار میں ہوں دیکھتا ہے
ہم لوگ، تیری بات، تِرے بعد مان کر
بس چُپ ہیں، غم کو قدرتی افتاد مان کر
اب دیکھیے کہ ساتھ نبھاتا ہے کتنے مِیل
چل تو پڑا ہے وہ مِری فریاد مان کر
تم سب نے اُتنا رونا ہے، جتنا کہ میں کہوں
مجھ کو اصولِ گریہ کا استاد مان کر
مُنافقت نہ دِکھائے، خُوشی خُوشی نِکلے
جِسے نِکلنا ہے دل سے مِرے، ابھی نکلے
تُو جس کو چاہے اُسے اور سے محبت ہو
اور اُس کی پہلی محبت ہی آخری نکلے
تُو میرے شعر پہ ہنستا ہے، یہ دُعا ہے مِری
کہ تیرے بچوں کی نس نس سے شاعری نکلے
عجب گُھٹن تھی وہاں پر لہٰذا نکلے اور
تمام رات تلاشے پھر اپنے جیسے اور
تمہارے دل کی طرف اور رستے جاتے تھے
کسی نے ہم کو مہیا کیے تھے نقشے اور
پرائے دیس میں اے دل کہاں سے لاؤں وہ ماں
جو ماتھا چُوم کے کہتی ہے؛ اور کھا لے اور
آسمانوں سے زمیں کی طرف آتے ہوئے ہم
ایک مجمع کے لیے شعر سناتے ہوئے ہم
کس گماں میں ہیں تِرے شہر کے بھٹکے ہوئے لوگ
دیکھنے والے پلٹ کر نہیں جاتے ہوئے ہم
کیسی جنت کے طلب گار ہیں تو جانتا ہے
تیری لکھی ہوئی دنیا کو مٹاتے ہوئے ہم