Showing posts with label ہما علی. Show all posts
Showing posts with label ہما علی. Show all posts

Thursday, 28 September 2023

ساتھ میرا تمہارا کب تک ہے

 تم سے پوچھوں اگر بتاؤ گے

ایک الجھن مری مٹاؤ گے

چاند شب بھر ہے

سنگ تاروں کے یہ کرن

شام تک ہے سورج کی

پھول کھلتے ہیں

Sunday, 10 April 2022

کیسا جادو ہے کہ لو نام بھی جی اٹھتے ہیں

 کیسا جادو ہے کہ لو نام بھی جی اٹھتے ہیں

تجھ سا ساقی ہو تو یہ جام بھی جی اٹھتے ہیں

یوں تِری یاد جو چوکھٹ پہ قدم رکھتی ہے

یہ دریچہ یہ در و بام بھی جی اٹھتے ہیں

جانے کیا دور افق سے وہ ضیا آتی ہے

کچھ ستارے تو سرِِ شام بھی جی اٹھتے ہیں

Sunday, 7 November 2021

بہار رت تھی مگر ہر شجر ہی زرد ملا

 بہار رُت تھی مگر ہر شجر ہی زرد ملا

ملی تھی زندگی کیوں کر، لہو جو سرد ملا

کہاں طلب تھی مکمل جہان مل جاتا

مگر سوال ہے چاہا جسے، وہ فرد ملا ؟

یہ وحشتوں کا سفر اب بھی نا مکمل ہے

کہ جب بھی پاؤں دھرے راستہ یہ گرد ملا

Wednesday, 3 November 2021

دھند کے پار کنارہ تو نہیں ہو سکتا

 دُھند کے پار کنارا تو نہیں ہو سکتا

یار طوفاں کا سہارا تو نہیں ہو سکتا

شب کو ہے چاہ چمکتے ہوئے روشن دن کی

ان چراغوں سے گزارا تو نہیں ہو سکتا

ہم ذرا تلخ دہن، تلخ سخن، تلخ روا

خلقتِ شہر سے یارا تو نہیں ہو سکتا

Wednesday, 20 October 2021

چھوڑنا تھا انہیں آسان بھلانا مشکل

 چھوڑنا تھا انہیں آسان، بھلانا مشکل

ترکِ الفت کا جو وعدہ تھا نبھانا مشکل

جاتے جاتے جو پلٹ کر وہ ذرا ٹھہرے تھے

پھر تو عالم وہ ہُوا دل کا بتانا مشکل

گہری تنہائی، اداسی، وہ برستی بارش

آخرِ شب تھا چراغوں کو جلانا مشکل

Thursday, 14 October 2021

کیسا جادو ہے کے لو نام بھی جی اٹھتے ہیں

 کیسا جادو ہے کے لو نام بھی جی اُٹھتے ہیں

تجھ سا ساقی ہو تو یہ جام بھی جی اٹھتے ہیں

یوں تِری یاد جو چوکھٹ پہ قدم رکھتی ہے

یہ دریچہ، یہ در و بام بھی جی اٹھتے ہیں

جانے کیا دُور اُفق سے وہ ضیا آتی ہے

کچھ ستارے تو سرِ شام بھی جی اٹھتے ہیں

Sunday, 3 October 2021

بہار رنگ مرے چار سو ابھی تک ہے

 بہار رنگ مِرے چار سُو ابھی تک ہے

دوامِ حسن ہے وہ ماہ رو ابھی تک ہے

سنا تھا فرقتیں حُلیہ بگاڑ دیتی ہیں؟

کہاں کا ہجر کہ وہ خُوبرو ابھی تک ہے

ہو رنج کیا اسے محرومئ تمنا کا

انا کے باب میں وہ سرخرو ابھی تک ہے

Saturday, 2 October 2021

ان کا پیکر تو خیالی ہے مگر کیا کیجے

 اُن کا پیکر تو خیالی ہے مگر کیا کیجے

آنکھ بِن دیکھے لڑا لی ہے مگر کیا کیجے

اک قیامت سی بپا پوسٹ کیا کرتی ہے

ٹیگ کا دل یہ سوالی ہے مگر کیا کیجے

وہ جو ڈی پی پہ فقط ہاتھ قلم پکڑے ہے

لگتا پیکر وہ جمالی ہے مگر کیا کیجے

Tuesday, 28 September 2021

یہ دنیا دشت ویراں رونق پیہم ہی بن جاؤ

 یہ دنیا دشتِ ویراں، رونقِ پیہم ہی بن جاؤ

میں ہوں تنہا تمہارے بِن مِرے ہمدم ہی بن جاؤ

کمی ہے ہر طرف مخمل سے جذبوں کی زمانے میں

کرو کچھ غور مجھ پر تم سبک ریشم ہی بن جاؤ

یہ سارے گھاؤ دل پر جو سجا رکھے ہیں چاہو تو

کبھی احساس کو چُھو لو ذرا مرہم ہی بن جاؤ

Sunday, 26 September 2021

اک جنم اور عنایت ہو کسک باقی ہے

 اک جنم اور عنایت ہو کسک باقی ہے

یہ زمیں زاد ہی دیکھے ہیں فلک باقی ہے

تُو نے اس طور عطا کی ہے تسلی دل کو

ہار بیٹھے ہیں تو جانا کے کمک باقی ہے

راہ کے خار جو دیوار ہوئے جاتے ہیں

خار کے پار بھی سرکار سڑک باقی ہے

Saturday, 8 May 2021

کیسے سمجھاؤں اسے میری کہاں سنتا ہے

 کیسے سمجھاؤں اسے میری کہاں سنتا ہے

وحشتِ دل کا سِرا تجھ سے جہاں ملتا ہے

ہو جو اک پل تُو جدا سانس مِری رکتی ہے

یہ الگ بات کہ تُو مجھ کو کہاں ملتا ہے

اک نظر تُو نے جو ڈالی تو دیا دل تجھ کو

اتنے کم دام پہ اب کس کو مکاں ملتا ہے

Thursday, 25 March 2021

کوئی آغاز ایسا ہو نہ کچھ انجام کا ڈر ہو

 کوئی آغاز ایسا ہو نہ کچھ انجام کا ڈر ہو

محبت صبح جیسی ہو نہ جس میں شام کا ڈر ہو

اٹھے جو تیری جانب پھر انہیں منزل سے کیا لینا

صنم کی چاہ میں بڑھتے ہوئے ہر گام کا ڈر ہو

تِرے ہی نام سے پہچان چاہی تھی زمانے میں

چلو بدنام ہی سمجھو ہمیں کیا نام کا ڈر ہو

Tuesday, 16 March 2021

ہم جو آسانی سے حاصل ہو گئے

 ہم جو آسانی سے حاصل ہو گئے

لوگ ناقدری پہ مائل ہو گئے

گرچہ آمادہ تھے وہ تجدید پر

پھر پرانے کچھ مسائل ہو گئے

ہجر نے کڑوا کیا ہے تن بدن

ذائقے جتنے تھے زائل ہو گئے

Tuesday, 17 November 2020

میرے سرکار اطاعت نہیں ہونے والی

 میرے سرکار اطاعت نہیں ہونے والی

اب تو بے کار سیاست نہیں ہونے والی

کر گرفتار ترے دل کو کِیا ہے قیدی

مان لو ہار بغاوت نہیں ہونے والی

دل کو درکار ہے اک مست نظر ساقی کی

بن کے مے خوار شرارت نہیں ہونے والی