تم سے پوچھوں اگر بتاؤ گے
ایک الجھن مری مٹاؤ گے
چاند شب بھر ہے
سنگ تاروں کے یہ کرن
شام تک ہے سورج کی
پھول کھلتے ہیں
تم سے پوچھوں اگر بتاؤ گے
ایک الجھن مری مٹاؤ گے
چاند شب بھر ہے
سنگ تاروں کے یہ کرن
شام تک ہے سورج کی
پھول کھلتے ہیں
کیسا جادو ہے کہ لو نام بھی جی اٹھتے ہیں
تجھ سا ساقی ہو تو یہ جام بھی جی اٹھتے ہیں
یوں تِری یاد جو چوکھٹ پہ قدم رکھتی ہے
یہ دریچہ یہ در و بام بھی جی اٹھتے ہیں
جانے کیا دور افق سے وہ ضیا آتی ہے
کچھ ستارے تو سرِِ شام بھی جی اٹھتے ہیں
بہار رُت تھی مگر ہر شجر ہی زرد ملا
ملی تھی زندگی کیوں کر، لہو جو سرد ملا
کہاں طلب تھی مکمل جہان مل جاتا
مگر سوال ہے چاہا جسے، وہ فرد ملا ؟
یہ وحشتوں کا سفر اب بھی نا مکمل ہے
کہ جب بھی پاؤں دھرے راستہ یہ گرد ملا
دُھند کے پار کنارا تو نہیں ہو سکتا
یار طوفاں کا سہارا تو نہیں ہو سکتا
شب کو ہے چاہ چمکتے ہوئے روشن دن کی
ان چراغوں سے گزارا تو نہیں ہو سکتا
ہم ذرا تلخ دہن، تلخ سخن، تلخ روا
خلقتِ شہر سے یارا تو نہیں ہو سکتا
چھوڑنا تھا انہیں آسان، بھلانا مشکل
ترکِ الفت کا جو وعدہ تھا نبھانا مشکل
جاتے جاتے جو پلٹ کر وہ ذرا ٹھہرے تھے
پھر تو عالم وہ ہُوا دل کا بتانا مشکل
گہری تنہائی، اداسی، وہ برستی بارش
آخرِ شب تھا چراغوں کو جلانا مشکل
کیسا جادو ہے کے لو نام بھی جی اُٹھتے ہیں
تجھ سا ساقی ہو تو یہ جام بھی جی اٹھتے ہیں
یوں تِری یاد جو چوکھٹ پہ قدم رکھتی ہے
یہ دریچہ، یہ در و بام بھی جی اٹھتے ہیں
جانے کیا دُور اُفق سے وہ ضیا آتی ہے
کچھ ستارے تو سرِ شام بھی جی اٹھتے ہیں
بہار رنگ مِرے چار سُو ابھی تک ہے
دوامِ حسن ہے وہ ماہ رو ابھی تک ہے
سنا تھا فرقتیں حُلیہ بگاڑ دیتی ہیں؟
کہاں کا ہجر کہ وہ خُوبرو ابھی تک ہے
ہو رنج کیا اسے محرومئ تمنا کا
انا کے باب میں وہ سرخرو ابھی تک ہے
اُن کا پیکر تو خیالی ہے مگر کیا کیجے
آنکھ بِن دیکھے لڑا لی ہے مگر کیا کیجے
اک قیامت سی بپا پوسٹ کیا کرتی ہے
ٹیگ کا دل یہ سوالی ہے مگر کیا کیجے
وہ جو ڈی پی پہ فقط ہاتھ قلم پکڑے ہے
لگتا پیکر وہ جمالی ہے مگر کیا کیجے
یہ دنیا دشتِ ویراں، رونقِ پیہم ہی بن جاؤ
میں ہوں تنہا تمہارے بِن مِرے ہمدم ہی بن جاؤ
کمی ہے ہر طرف مخمل سے جذبوں کی زمانے میں
کرو کچھ غور مجھ پر تم سبک ریشم ہی بن جاؤ
یہ سارے گھاؤ دل پر جو سجا رکھے ہیں چاہو تو
کبھی احساس کو چُھو لو ذرا مرہم ہی بن جاؤ
اک جنم اور عنایت ہو کسک باقی ہے
یہ زمیں زاد ہی دیکھے ہیں فلک باقی ہے
تُو نے اس طور عطا کی ہے تسلی دل کو
ہار بیٹھے ہیں تو جانا کے کمک باقی ہے
راہ کے خار جو دیوار ہوئے جاتے ہیں
خار کے پار بھی سرکار سڑک باقی ہے
کیسے سمجھاؤں اسے میری کہاں سنتا ہے
وحشتِ دل کا سِرا تجھ سے جہاں ملتا ہے
ہو جو اک پل تُو جدا سانس مِری رکتی ہے
یہ الگ بات کہ تُو مجھ کو کہاں ملتا ہے
اک نظر تُو نے جو ڈالی تو دیا دل تجھ کو
اتنے کم دام پہ اب کس کو مکاں ملتا ہے
کوئی آغاز ایسا ہو نہ کچھ انجام کا ڈر ہو
محبت صبح جیسی ہو نہ جس میں شام کا ڈر ہو
اٹھے جو تیری جانب پھر انہیں منزل سے کیا لینا
صنم کی چاہ میں بڑھتے ہوئے ہر گام کا ڈر ہو
تِرے ہی نام سے پہچان چاہی تھی زمانے میں
چلو بدنام ہی سمجھو ہمیں کیا نام کا ڈر ہو
ہم جو آسانی سے حاصل ہو گئے
لوگ ناقدری پہ مائل ہو گئے
گرچہ آمادہ تھے وہ تجدید پر
پھر پرانے کچھ مسائل ہو گئے
ہجر نے کڑوا کیا ہے تن بدن
ذائقے جتنے تھے زائل ہو گئے
میرے سرکار اطاعت نہیں ہونے والی
اب تو بے کار سیاست نہیں ہونے والی
کر گرفتار ترے دل کو کِیا ہے قیدی
مان لو ہار بغاوت نہیں ہونے والی
دل کو درکار ہے اک مست نظر ساقی کی
بن کے مے خوار شرارت نہیں ہونے والی