کیسے سمجھاؤں اسے میری کہاں سنتا ہے
وحشتِ دل کا سِرا تجھ سے جہاں ملتا ہے
ہو جو اک پل تُو جدا سانس مِری رکتی ہے
یہ الگ بات کہ تُو مجھ کو کہاں ملتا ہے
اک نظر تُو نے جو ڈالی تو دیا دل تجھ کو
اتنے کم دام پہ اب کس کو مکاں ملتا ہے
ہم تو مانندِ بُتاں بیٹھ رہے رستے میں
اور تجھ کو تو فلاں اور فلاں ملتا ہے
یوں تو دن رات گزرتے ہیں جُنوں میں اپنے
بس سکوں دل کو ذرا وقتِ اذاں ملتا ہے
عشق کی راہ میں ہم کو تو صنم بھی نہ ملا
کون کمبخت یہ کہتا ہے جہاں ملتا ہے
ہاتھ دیکھا جو نجومی نے تو یہ مجھ سے کہا
تُو ہے مقتول، لکیروں میں نشاں ملتا ہے
ماں مِری کرتی رہی دَم کہ مِرا بچپن تھا
عشق آسیب وہ جو ہو کہ جواں ملتا ہے
ہما علی
No comments:
Post a Comment