Showing posts with label اثر لکھنوی. Show all posts
Showing posts with label اثر لکھنوی. Show all posts

Friday, 28 July 2023

کونین کا سردار حسین ابن علی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


کونین کا سردار حسینؑ ابنِ علیؑ ہے

سر چشمۂ انوارِ حسینؑ ابن علیؑ ہے

دانندہ اسرارِ حسینؑ ابن علیؑ ہے

اُمت کا سپردار حسینؑ ابن علیؑ ہے

مقدور کسے مدحِ امامِؑ دو سرا کا

حقا کہ وہ محبوبؑ ہے محبوبِؐ خدا کا

Sunday, 23 May 2021

دل عشق کی مے سے چھلک رہا ہے

دل عشق کی مے سے چھلک رہا ہے

اک پھول ہے جو مہک رہا ہے

آنکھیں کب کی برس چکی ہیں

کوندا اب تک لپک رہا ہے

اب آئے بہار یا نہ آئے

آنکھوں سے لہو ٹپک رہا ہے

Saturday, 22 May 2021

رہے جو ہوش تو وہ جان جاں نہیں ملتا

 رہے جو ہوش تو وہ جانِ جاں نہیں ملتا

بغیر کھوئے ہوئے کچھ یہاں نہیں ملتا

ہزار جلوۂ رنگیں،۔ ہزار ذوقِ نظر

بیانِ حُسن کو حُسنِ بیاں نہیں ملتا

مذاقِ دید کی تکمیل ہو تو کیوں کر ہو

کہ وہ ملے تو پھر اپنا نشاں نہیں ملتا

Wednesday, 19 May 2021

نوید وصل یار آئے نہ آئے

 نویدِ وصلِ یار آئے نہ آئے

برابر ہے بہار آئے نہ آئے

تجھے کرنا ہے جو کچھ آج کر لے

کہ پھر یہ روزگار آئے نہ آئے

کئے جا دردِ دل اے نامرادی

کسی کو اعتبار آئے نہ آئے

Wednesday, 10 March 2021

بھولے افسانے وفا کے یاد دلواتے ہوئے

 بھولے افسانے وفا کے یاد دلواتے ہوئے

تم تو آئے اور دل کی آگ بھڑکاتے ہوئے

موجِ مے بل کھا گئی، گل کو جماہی آ گئی

زلف کو دیکھا جو اس عارض پہ لہراتے ہوئے

بے مروت یاد کر لے، اب تو مدت ہو گئی

تیری باتوں سے دلِ مضطر کو بہلاتے ہوئے

Sunday, 13 November 2016

دلہن بنی ہوئی اب کے چمن میں آئی ہے

دلہن بنی ہوئی اب کے چمن میں آئی ہے
بہار ہو کے تِری انجمن میں آئی ہے
شمیم دوست لیے پیرہن میں آئی ہے
نسیم ہوش اڑاتی چمن میں آئی ہے
ظہورِ عشق حقیقت طراز تھا، ورنہ
یہ دلکشی کہیں دارورسن میں آئی ہے

ہے عشق جنہیں دل کا وہ کہنا نہیں کرتے

ہے عشق جنہیں دل کا وہ کہنا نہیں کرتے
مر جائیں مگر عرضِ تمنا نہیں کرتے
مقدور اگر کچھ ہو تو کیا کیا نہ کریں ہم
مقدور نا ہونے پہ تو کیا کیا نہیں کرتے
اچھا نہیں ہوتا کبھی بیمارِ محبت
اچھا ہے کہ تم فکرِ مداوا نہیں کرتے

دل گیا بیقراریاں نہ گئیں

دل گیا بے قراریاں نہ گئیں
عشق کی خام کاریاں نہ گئیں
مر مٹے نام پر وفا کے ہم
تیری بے اعتباریاں نہ گئیں
لب پہ آیا نہ اس کا نام کبھی
غم کی پرہیزگاریاں نہ گئیں

Tuesday, 18 October 2016

اپنے بیماروں کو درد لادوا دینے لگے

اپنے بیماروں کو دردِ لا دوا دینے لگے
آہ، کیا دینا تھا تم کو اور کیا دینے لگے
دیکھنا شوخی کہ محوِ درس خاموشی ہوا
جب مجھے طعنے ستمگر کے مزا دینے لگے
غم نہیں، پیشانیاں خالی ہوں مثلِ ماہِ نو
دھن یہی ہے سنگِ در تیرا ضیا دینے لگے

اپنا چمن نہیں تو خزاں کیا بہار کیا

اپنا چمن نہیں تو خزاں کیا بہار کیا
بلبل ہو نغمہ سنج سرِ شاخسار کیا
منت پذیرِ شوق، نہ مانوسِ اضطراب
تجھ کو قرار آئے دلِ بے قرار کیا
غفلت کا ہے یہ حال کہ اب تک خبر نہیں
اس انجمن میں کیا ہے نہاں، آشکار کیا

ساتھ دے گا کوئی اب کیا سر منزل میرا

ساتھ دے گا کوئی اب کیا سرِ منزل میرا
مجھ سے بیگانہ ہوا جاتا ہے خود دل میرا
دل گم گشتہ کو میں بیٹھ کے دم بھر رو لوں
چھوڑ دے ساتھ زرا حسرتِ منزل میرا
میرا ہر نقشِ قدم درس گاہِ عبرت ہے
اس قدر خاک سے ہموار ہوا دل میرا

Friday, 4 March 2016

ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لینا

اِدھر دیکھ لینا،۔ اُدھر دیکھ لینا
پھر ان کی طرف اک نظر دیکھ لینا
وہ میرا نہ کہنے میں کہہ جانا سب کچھ
وہ ان کا اچانک اِدھر دیکھ لینا
عبث میری جانب سے تُو بدگماں ہے
نہیں مدعا کچھ،۔ مگر دیکھ لینا

یہاں تک ہو اے دل خراب محبت

یہاں تک ہو اے دل! خرابِ محبت
کہ آنکھوں سے چھلکے شرابِ محبت
رگوں میں لہو سانس لیتا ہے گویا
اب اس حد پہ ہے اضطرابِ محبت
صبا گنگنائی،۔ فضا گونج اٹھی
جہاں دل نے چھیڑا ربابِ محبت

دل سے رخصت ہر اک امید ہوئی

دل سے رخصت ہر اک امید ہوئی
آج ہم غم زدوں کی عید ہوئی
دور سے گاہ گاہ ایک نگاہ
اس کو بھی مدتِ مدید ہوئی
میرے ہی شوق کا وہ پرتو تھا
میں سمجھتا تھا ان کی دید ہوئی

Saturday, 27 February 2016

چپکے سے نام لے کے تمہارا کبھی کبھی

چپکے سے نام لے کے تمہارا کبھی کبھی
دل ڈوبنے لگا تو ابھارا کبھی کبھی
ہر چند اشک یاس سے جب امڈے تو پی گئے
چمکا فلک پہ ایک ستارا کبھی کبھی
میں نے تو ہونٹ سی لیے، اس دل کو کیا کروں
بے اختیار تم کو پکارا کبھی کبھی

نگہ شوق کو یوں آئینہ سامانی دے

نِگہِ شوق کو یوں آئینہ سامانی دے
عشق کو حسن بنا حسن کو حیرانی دے
دلنوازی میں بھی ایذا ہے محبت کی قسم
تجھ کو فرصت جو کبھی شغلِ ستم رانی دے
کچھ تِری چشمِ سخن ساز کا ایما نہ کھلا
لبِ مے نوش کو تکلیفِ گل افشانی دے

نگاہ ناز تیری فتنہ سامانی نہیں جاتی

نگاہِ ناز! تیری فتنہ سامانی نہیں جاتی
کبھی جو دل ٹھہرتا ہے تو حیرانی نہیں جاتی
نظر اس حسنِ تاباں تک بآسانی نہیں جاتی
مگر جا کر پلٹتی ہے تو پہچانی نہیں جاتی
ہوئی مدت کہ اس نے ناز سے دامن کو جھٹکا تھا
ابھی تک موجۂ گل کی پریشانی نہیں جاتی

جب سے ان سے آنکھ لڑی ہے آنکھوں میں اپنی خواب نہیں

جب سے ان سے آنکھ لڑی ہے آنکھوں میں اپنی خواب نہیں
اُس پہ مصیبت یہ ہے ہمدم! صبر کی دل کو تاب نہیں
پوچھنے والے تُو نے پوچھا لطف کرم، احسان کیا
لب پر آئے حرف تمنا، عشق کے یہ آداب نہیں
عشق و جنوں کچھ فرداً فرداً کم نہ تھے اور جب سازش کی
ایسے بن میں لا کر مارا کوسوں جس میں آب نہیں

Monday, 12 October 2015

ساغر اٹھا لیا کبھی مینا اٹھا لیا

ساغر اٹھا لیا کبھی مِینا اٹھا لیا
توبہ جو یاد آ گئی رکھا، اٹھا لیا
لاتا ہے روز جان پر آفت نئی نئی
جا تجھ سے ہاتھ اے دلِ شیدا اٹھا لیا
مثلِ نسیم پھر نہ لیا اک جگہ قرار
جس نے تِری تلاش کا بیڑا اٹھا لیا

اک بے وفا پہ جان کو وارے چلے گئے

اک بے وفا پہ جان کو وارے چلے گئے
بازی لگا کے عشق کی ہارے چلے گئے
طعنے وہی ہیں، طنز وہی، چشمگیں وہی
ہم سے تھے جو سلوک تمہارے چلے گئے
رعنائیوں کے ساتھ ہی دشواریاں بڑھیں
جتنا بھی زندگی کو سنوارے چلے گئے