عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
کونین کا سردار حسینؑ ابنِ علیؑ ہے
سر چشمۂ انوارِ حسینؑ ابن علیؑ ہے
دانندہ اسرارِ حسینؑ ابن علیؑ ہے
اُمت کا سپردار حسینؑ ابن علیؑ ہے
مقدور کسے مدحِ امامِؑ دو سرا کا
حقا کہ وہ محبوبؑ ہے محبوبِؐ خدا کا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
کونین کا سردار حسینؑ ابنِ علیؑ ہے
سر چشمۂ انوارِ حسینؑ ابن علیؑ ہے
دانندہ اسرارِ حسینؑ ابن علیؑ ہے
اُمت کا سپردار حسینؑ ابن علیؑ ہے
مقدور کسے مدحِ امامِؑ دو سرا کا
حقا کہ وہ محبوبؑ ہے محبوبِؐ خدا کا
دل عشق کی مے سے چھلک رہا ہے
اک پھول ہے جو مہک رہا ہے
آنکھیں کب کی برس چکی ہیں
کوندا اب تک لپک رہا ہے
اب آئے بہار یا نہ آئے
آنکھوں سے لہو ٹپک رہا ہے
رہے جو ہوش تو وہ جانِ جاں نہیں ملتا
بغیر کھوئے ہوئے کچھ یہاں نہیں ملتا
ہزار جلوۂ رنگیں،۔ ہزار ذوقِ نظر
بیانِ حُسن کو حُسنِ بیاں نہیں ملتا
مذاقِ دید کی تکمیل ہو تو کیوں کر ہو
کہ وہ ملے تو پھر اپنا نشاں نہیں ملتا
نویدِ وصلِ یار آئے نہ آئے
برابر ہے بہار آئے نہ آئے
تجھے کرنا ہے جو کچھ آج کر لے
کہ پھر یہ روزگار آئے نہ آئے
کئے جا دردِ دل اے نامرادی
کسی کو اعتبار آئے نہ آئے
بھولے افسانے وفا کے یاد دلواتے ہوئے
تم تو آئے اور دل کی آگ بھڑکاتے ہوئے
موجِ مے بل کھا گئی، گل کو جماہی آ گئی
زلف کو دیکھا جو اس عارض پہ لہراتے ہوئے
بے مروت یاد کر لے، اب تو مدت ہو گئی
تیری باتوں سے دلِ مضطر کو بہلاتے ہوئے