Sunday, 23 May 2021

دل عشق کی مے سے چھلک رہا ہے

دل عشق کی مے سے چھلک رہا ہے

اک پھول ہے جو مہک رہا ہے

آنکھیں کب کی برس چکی ہیں

کوندا اب تک لپک رہا ہے

اب آئے بہار یا نہ آئے

آنکھوں سے لہو ٹپک رہا ہے

ہے دور بہت زمان وعدہ

اور دل ابھی سے دھڑک رہا ہے

کس نے وحشی اثر کو چھیڑا

دیوار سے سر پٹک رہا ہے


اثر لکھنوی

No comments:

Post a Comment