گہری ہے بہت رات ستارا ہے نہ جگنو
منزل کی طرف کوئی اشارا ہے نہ جگنو
ساحل کی طرف آؤں تو کیا سوچ کے آؤں
میرے لیے اس پار سہارا ہے نہ جگنو
گھبرا کے اندھیروں سے کبھی میری طلب نے
نہ چاند نہ سورج کو پکارا ہے نہ جگنو
امروزِ جہاں میں رہِ فردا کے مسافر
کچھ پاس تِرے نور کا دھارا ہے نہ جگنو
لڑنا ہے تو یہ سوچ کے لڑ تیرہ شبی سے
رستے میں کوئی دیپ شرارا ہے نہ جگنو
ہر رات کے پہلو سے نکلتا ہے سویرا
بادل نے کبھی دیپ اتارا ہے نہ جگنو
رہتا ہے اندھیرا تو رہے دل کی زمیں پر
مانگے کا ہمیں چاند گوارا ہے نہ جگنو
تابش نے کبھی ان کے سوا دل کے ورق پر
پریوں سا کوئی نقش ابھارا ہے نہ جگنو
شہزاد تابش
No comments:
Post a Comment