Sunday, 23 May 2021

گہری ہے بہت رات ستارا ہے نہ جگنو

 گہری ہے بہت رات ستارا ہے نہ جگنو

منزل کی طرف کوئی اشارا ہے نہ جگنو

ساحل کی طرف آؤں تو کیا سوچ کے آؤں

میرے لیے اس پار سہارا ہے نہ جگنو

گھبرا کے اندھیروں سے کبھی میری طلب نے

نہ چاند نہ سورج کو پکارا ہے نہ جگنو

امروزِ جہاں میں رہِ فردا کے مسافر

کچھ پاس تِرے نور کا دھارا ہے نہ جگنو

لڑنا ہے تو یہ سوچ کے لڑ تیرہ شبی سے

رستے میں کوئی دیپ شرارا ہے نہ جگنو

ہر رات کے پہلو سے نکلتا ہے سویرا

بادل نے کبھی دیپ اتارا ہے نہ جگنو

رہتا ہے اندھیرا تو رہے دل کی زمیں پر

مانگے کا ہمیں چاند گوارا ہے نہ جگنو

تابش نے کبھی ان کے سوا دل کے ورق پر

پریوں سا کوئی نقش ابھارا ہے نہ جگنو


شہزاد تابش

No comments:

Post a Comment