Showing posts with label زہرا شاہ. Show all posts
Showing posts with label زہرا شاہ. Show all posts

Tuesday, 12 October 2021

جو ہونا چاہیے تھا وہ ویسا نہیں ہوا

 جو ہونا چاہیۓ تھا وہ ویسا نہیں ہوا

تجھ پر یقین آج بھی پختہ نہیں ہوا

اس میں تمہارے ہجر کے آنسو نہیں ملے

مہندی کا رنگ آج بھی گہرا نہیں ہوا

زنگار اس پہ سوچ کا لگنے نہیں دیا

دل تیری رنجشوں سے بھی میلا نہیں ہوا

Wednesday, 29 September 2021

میں اس کا مسئلہ تھی جسے حل نہیں کیا

 میں اس کا مسئلہ تھی جسے حل نہیں کیا

اس نے مجھے کبھی بھی مکمل نہیں کیا

مانا کہ تھل مزاج رُتوں کی امین ہوں

روتی رہی ہوں آنکھ کو تو تھل نہیں کیا

اس کو بُھلانا تھا سو بُھلا بھی دیا اُسے

جو کام آج کا تھا اسے کل نہیں کیا

Friday, 27 August 2021

راکھ یادوں کی اڑانے میں بہت وقت لگا

 راکھ یادوں کی اڑانے میں بہت وقت لگا

یار! اس بار سنبھلنے میں بہت وقت لگا

میں نے فطرت کے مظاہر میں تجھے ڈھونڈا ہے

یا خدا! تجھ کو سمجھنے میں بہت وقت لگا

دستکیں لوٹ کے توڑیں گی سکوتِ جاں کو

در کو دیوار بنانے میں بہت وقت لگا

Sunday, 20 June 2021

ایسے بے لطف نظاروں سے بہلتی کیوں کر

 ایسے بے لطف نظاروں سے بہلتی کیوں کر

تُو مجھے دل میں جو رکھتا تو بکھرتی کیوں کر

درد توثیق کے درجے سے اترتا کیسے

مسند عشق سے میں گر کے سنبھلتی کیوں کر

تجھ کو درکار بہانے تھے جدائی کے لیے

میں سرِ عام محبت سے منع کرتی کیوں کر

Sunday, 6 June 2021

کسی جواب کی مہلت نہیں ملی مجھ کو

 کسی جواب کی مہلت نہیں مِلی مجھ کو

بُرا نہ مان، سہولت نہیں ملی مجھ کو

اسی سکون نے عادت بگاڑ دی میری

بہت دنوں سے اذیت نہیں ملی مجھ کو

کسی سے اپنے تعلق کو غور سے دیکھا

کسی طرح کی حماقت نہیں ملی مجھ کو

Tuesday, 1 June 2021

جیسے اسے قبول تھا کرنا پڑا مجھے

 جیسے اسے قبول تھا کرنا پڑا مجھے

ہر زاویے سے خود کو بدلنا پڑا مجھے

یادوں کی ریل اور کہیں جا رہی تھی پھر

زنجیر کھینچ کر ہی اُترنا پڑا مجھے

ہر حادثے کے بعد کوئی حادثہ ہوا

ہر حادثے کے بعد سنبھلنا پڑا مجھے

Saturday, 29 May 2021

کسی کے لمس کسی کے حوالے کرنے ہیں

 کسی کے لمس کسی کے حوالے کرنے ہیں

گئے دنوں کے ابھی تک ازالے کرنے ہیں

قریب رہ کے مقدر سنوارنے والے

تِری جدائی نے کمرے میں جالے کرنے ہیں

جو ہیں پسند انہیں اک جگہ ہی کرنا ہے

تمام چہرے کسی اک میں ڈھالے کرنے ہیں

Friday, 28 May 2021

رشتہ کمزور ہو تو توڑ دیا جاتا ہے

 رشتہ کمزور ہو تو توڑ دیا جاتا ہے

پھر کہانی کو نیا موڑ دیا جاتا ہے

ہم کو اک خواب کی مہلت بھی کہاں ملتی ہے

نیند سے پہلے ہی جھنجھوڑ دیا جاتا ہے

رات وحشت کو ذرا اور بڑھا دیتی ہے

سر کو دیوار سے پھر پھوڑ دیا جاتا ہے

Wednesday, 21 April 2021

دو چار دن تو رہتے یہ غم ماہ و سال کے

 دو چار دن تو رہتے یہ غم ماہ و سال کے

یہ سلطنت بنی ہے بڑی دیکھ بھال کے

شکوہ کُناں ہے کتنی کناروں کی ریت بھی

دریاؤں کی یہ پیاس کو باہر اُچھال کے

میرے لیے تو تُو ہی مکمل جہان تھا

آدھی ہی رہ گئی ہوں میں تجھ کو نکال کے

Tuesday, 20 April 2021

لاشعور کی سرحد پر

 لاشعور کی سرحد پر

زندگی کے امکان میں وسعت

شاعری کے بہاؤ کا پہلا

اور آخری منظر ہے

جس سے استفہام کی نوعیت کے ناخن

استعجاب کے سر کے بال

Tuesday, 12 January 2021

یہ خود بہل جائے گی طبیعت کسی کی کوئی کمی نہیں ہے

 یہ خود بہل جائے گی طبیعت کسی کی کوئی کمی نہیں ہے

مجھے دلاسوں کی کیا ضرورت میری مصیبت نئی نہیں ہے

سنا بہت تھا ہمارے قصے سبھی جریدوں میں چھپ چکے ہیں

میں پڑھ چکی ہوں یہ سارے کالم وہ اک خبر تو لگی نہیں ہے

یہ غم شراکت کا وہ ہی سمجھے جو اس اذیت میں مبتلا ہے

تم اتنے مغرور اس لیے ہو، تمہاری چاہت بٹی نہیں ہے

Monday, 11 January 2021

اتنا ساماں میری وحشت کے لیے کافی ہے

 اتنا ساماں میری وحشت کے لیے کافی ہے

ایک ہی شخص محبت کے لیے کافی ہے

وہ میرا مسئلہ اچھے سے سمجھ جائے گا

چپ کا اک لفظ وضاحت کے لیے کافی ہے

پیڑ کا کٹنا کہیں دور کسی گاؤں میں

یہ اشارہ میری ہجرت کے لیے کافی ہے

Sunday, 10 January 2021

یہی نہیں کہ جدائی میں مار دیتا ہے

 یہی نہیں کہ جدائی میں مار دیتا ہے

وہ زندگی بھی مجھے بے شمار دیتا ہے

اسے بھی پیاسا سمجھتے ہو حد نہیں ویسے

جو خالی آنکھ میں دریا اتار دیتا ہے

تم اب تو وقت بھی دیتے ہو اس طرح مجھ کو

کہ جیسے کوئی کسی کو اُدھار دیتا ہے

Saturday, 9 January 2021

خود فریبی کے نگر میں خوش گمانی ساتھ ہے

خود فریبی کے نگر میں خوش گمانی ساتھ ہے

عارضی راحت ملی ہے، رائیگانی ساتھ ہے

تشنگی کا خوف چھوڑو، دشت میں بھی خوش رہو

آنکھ جب تک ساتھ ہے تو سمجھو پانی ساتھ ہے

اک گماں کے زیر سایہ اک یقیں ٹھہرا ہوا

اک یقیں کامل ہے، لیکن بدگمانی ساتھ ہے

Wednesday, 6 January 2021

سارے امکان برملا رکھو

 سارے امکان برملا رکھو

چھوڑ جانے کا حوصلہ رکھو

اس کو پیچیدگی سے نفرت ہے

حل طلب کوئی مسئلہ رکھو

حسبِ اوقات جو بھی مل جائے

کم میسر سے مت گِلہ رکھو

Saturday, 2 January 2021

ہم مزاجی کسی کو بھائی ہے اپنا انجام بھی جدائی ہے

 ہم مزاجی کسی کو بھائی ہے؟

اپنا انجام بھی جدائی ہے

تم نے بس کہہ دیا محبت ہے

ہم نے کی اور پھر نبھائی ہے

کب میسر ہے ساتھ تیرا مجھے

اک تسلسل سے نارسائی ہے