جو ہونا چاہیۓ تھا وہ ویسا نہیں ہوا
تجھ پر یقین آج بھی پختہ نہیں ہوا
اس میں تمہارے ہجر کے آنسو نہیں ملے
مہندی کا رنگ آج بھی گہرا نہیں ہوا
زنگار اس پہ سوچ کا لگنے نہیں دیا
دل تیری رنجشوں سے بھی میلا نہیں ہوا
جو ہونا چاہیۓ تھا وہ ویسا نہیں ہوا
تجھ پر یقین آج بھی پختہ نہیں ہوا
اس میں تمہارے ہجر کے آنسو نہیں ملے
مہندی کا رنگ آج بھی گہرا نہیں ہوا
زنگار اس پہ سوچ کا لگنے نہیں دیا
دل تیری رنجشوں سے بھی میلا نہیں ہوا
میں اس کا مسئلہ تھی جسے حل نہیں کیا
اس نے مجھے کبھی بھی مکمل نہیں کیا
مانا کہ تھل مزاج رُتوں کی امین ہوں
روتی رہی ہوں آنکھ کو تو تھل نہیں کیا
اس کو بُھلانا تھا سو بُھلا بھی دیا اُسے
جو کام آج کا تھا اسے کل نہیں کیا
راکھ یادوں کی اڑانے میں بہت وقت لگا
یار! اس بار سنبھلنے میں بہت وقت لگا
میں نے فطرت کے مظاہر میں تجھے ڈھونڈا ہے
یا خدا! تجھ کو سمجھنے میں بہت وقت لگا
دستکیں لوٹ کے توڑیں گی سکوتِ جاں کو
در کو دیوار بنانے میں بہت وقت لگا
ایسے بے لطف نظاروں سے بہلتی کیوں کر
تُو مجھے دل میں جو رکھتا تو بکھرتی کیوں کر
درد توثیق کے درجے سے اترتا کیسے
مسند عشق سے میں گر کے سنبھلتی کیوں کر
تجھ کو درکار بہانے تھے جدائی کے لیے
میں سرِ عام محبت سے منع کرتی کیوں کر
کسی جواب کی مہلت نہیں مِلی مجھ کو
بُرا نہ مان، سہولت نہیں ملی مجھ کو
اسی سکون نے عادت بگاڑ دی میری
بہت دنوں سے اذیت نہیں ملی مجھ کو
کسی سے اپنے تعلق کو غور سے دیکھا
کسی طرح کی حماقت نہیں ملی مجھ کو
جیسے اسے قبول تھا کرنا پڑا مجھے
ہر زاویے سے خود کو بدلنا پڑا مجھے
یادوں کی ریل اور کہیں جا رہی تھی پھر
زنجیر کھینچ کر ہی اُترنا پڑا مجھے
ہر حادثے کے بعد کوئی حادثہ ہوا
ہر حادثے کے بعد سنبھلنا پڑا مجھے
کسی کے لمس کسی کے حوالے کرنے ہیں
گئے دنوں کے ابھی تک ازالے کرنے ہیں
قریب رہ کے مقدر سنوارنے والے
تِری جدائی نے کمرے میں جالے کرنے ہیں
جو ہیں پسند انہیں اک جگہ ہی کرنا ہے
تمام چہرے کسی اک میں ڈھالے کرنے ہیں
رشتہ کمزور ہو تو توڑ دیا جاتا ہے
پھر کہانی کو نیا موڑ دیا جاتا ہے
ہم کو اک خواب کی مہلت بھی کہاں ملتی ہے
نیند سے پہلے ہی جھنجھوڑ دیا جاتا ہے
رات وحشت کو ذرا اور بڑھا دیتی ہے
سر کو دیوار سے پھر پھوڑ دیا جاتا ہے
دو چار دن تو رہتے یہ غم ماہ و سال کے
یہ سلطنت بنی ہے بڑی دیکھ بھال کے
شکوہ کُناں ہے کتنی کناروں کی ریت بھی
دریاؤں کی یہ پیاس کو باہر اُچھال کے
میرے لیے تو تُو ہی مکمل جہان تھا
آدھی ہی رہ گئی ہوں میں تجھ کو نکال کے
لاشعور کی سرحد پر
زندگی کے امکان میں وسعت
شاعری کے بہاؤ کا پہلا
اور آخری منظر ہے
جس سے استفہام کی نوعیت کے ناخن
استعجاب کے سر کے بال
یہ خود بہل جائے گی طبیعت کسی کی کوئی کمی نہیں ہے
مجھے دلاسوں کی کیا ضرورت میری مصیبت نئی نہیں ہے
سنا بہت تھا ہمارے قصے سبھی جریدوں میں چھپ چکے ہیں
میں پڑھ چکی ہوں یہ سارے کالم وہ اک خبر تو لگی نہیں ہے
یہ غم شراکت کا وہ ہی سمجھے جو اس اذیت میں مبتلا ہے
تم اتنے مغرور اس لیے ہو، تمہاری چاہت بٹی نہیں ہے
اتنا ساماں میری وحشت کے لیے کافی ہے
ایک ہی شخص محبت کے لیے کافی ہے
وہ میرا مسئلہ اچھے سے سمجھ جائے گا
چپ کا اک لفظ وضاحت کے لیے کافی ہے
پیڑ کا کٹنا کہیں دور کسی گاؤں میں
یہ اشارہ میری ہجرت کے لیے کافی ہے
یہی نہیں کہ جدائی میں مار دیتا ہے
وہ زندگی بھی مجھے بے شمار دیتا ہے
اسے بھی پیاسا سمجھتے ہو حد نہیں ویسے
جو خالی آنکھ میں دریا اتار دیتا ہے
تم اب تو وقت بھی دیتے ہو اس طرح مجھ کو
کہ جیسے کوئی کسی کو اُدھار دیتا ہے
خود فریبی کے نگر میں خوش گمانی ساتھ ہے
عارضی راحت ملی ہے، رائیگانی ساتھ ہے
تشنگی کا خوف چھوڑو، دشت میں بھی خوش رہو
آنکھ جب تک ساتھ ہے تو سمجھو پانی ساتھ ہے
اک گماں کے زیر سایہ اک یقیں ٹھہرا ہوا
اک یقیں کامل ہے، لیکن بدگمانی ساتھ ہے
سارے امکان برملا رکھو
چھوڑ جانے کا حوصلہ رکھو
اس کو پیچیدگی سے نفرت ہے
حل طلب کوئی مسئلہ رکھو
حسبِ اوقات جو بھی مل جائے
کم میسر سے مت گِلہ رکھو
ہم مزاجی کسی کو بھائی ہے؟
اپنا انجام بھی جدائی ہے
تم نے بس کہہ دیا محبت ہے
ہم نے کی اور پھر نبھائی ہے
کب میسر ہے ساتھ تیرا مجھے
اک تسلسل سے نارسائی ہے