خود فریبی کے نگر میں خوش گمانی ساتھ ہے
عارضی راحت ملی ہے، رائیگانی ساتھ ہے
تشنگی کا خوف چھوڑو، دشت میں بھی خوش رہو
آنکھ جب تک ساتھ ہے تو سمجھو پانی ساتھ ہے
اک گماں کے زیر سایہ اک یقیں ٹھہرا ہوا
اک یقیں کامل ہے، لیکن بدگمانی ساتھ ہے
کچھ دنوں سے ایک وحشت دل میں گھر کرنے لگی
کچھ دنوں سے ایک آفت ناگہانی ساتھ ہے
زندگی کی تاک میں ہے زندگی اک اور بھی
موت بھی ہے پرتکلف، جاودانی ساتھ ہے
دشت کا منظر دکھاتے ہیں در و دیوار کیوں
گھر میں بھی رہتے ہوئے یہ لامکانی ساتھ ہے
سر برہنہ ہوں مگر باپردگی کی موج میں
مدتوں سے اک ردائے آسمانی ساتھ ہے
نسبتیں ہیں ذات کو زہرا شرف دیتی رہیں
سیدہ کا یہ اثاثہ خاندانی ساتھ ہے
زہرا شاہ
No comments:
Post a Comment