میرے آنگن سے گزرتی ہے نسیمِ جاں فزا
دیکھ کر مجھ کو نکھرتی ہے نسیمِ جاں فزا
جب بھی ہوتا ہے مِرے پہلو میں وہ میرا عزیز
اس گھڑی بے حد ہی ڈرتی ہے نسیمِ جاں فزا
پردۂ خاکی میں کوئی تو ہے پنہاں دوستو
اس لیے تو مجھ پہ مرتی ہے نسیمِ جاں فزا
میرے آنگن سے گزرتی ہے نسیمِ جاں فزا
دیکھ کر مجھ کو نکھرتی ہے نسیمِ جاں فزا
جب بھی ہوتا ہے مِرے پہلو میں وہ میرا عزیز
اس گھڑی بے حد ہی ڈرتی ہے نسیمِ جاں فزا
پردۂ خاکی میں کوئی تو ہے پنہاں دوستو
اس لیے تو مجھ پہ مرتی ہے نسیمِ جاں فزا
کھویا ہے تُو کن خیالوں میں رقیب
ان سیہ بالوں یا گالوں میں رقیب
ہاتھ میرا دیکھ کر ان ہاتھوں میں
پڑ گیا آخر سوالوں میں رقیب
کیا بتاؤں شہر والوں کا تمہیں
سب سے اچھا شہر والوں میں رقیب
درد ہے وحشت ہے اور دل کا عذاب
ہر طرف ظلمت ہے اور دل کا عذاب
کچھ خزانہ ہے نہیں اس کے بغیر
دیکھ لو، فرقت ہے اور دل کا عذاب
یہ اذیت ختم ہو سکتی نہیں
تا ابد آفت ہے اور دل کا عذاب
ٹوٹ کر پھر سے بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
اس کی دہلیز پہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
دیکھ کر آپ کی زر پاشی و ضو افشانی
آپ کے دل میں اُتر جانے کو جی چاہتا ہے
وادئ حسن میں جی لگتا نہیں ہے میرا
دوستو اس کے نگر جانے کو جی چاہتا ہے
روز و شب ہم نے اشکباری کی
انتہا ہے یہ بے قراری کی
میرا دامن سیاہ تھا پھر بھی
اے خدا! تُو نے پاسداری کی
جانے کب کا میں مر گیا ہوتا
ان کی یادوں نے آبیاری کی
مجھ سے کیوں چھین لی ہے خاموشی
میری تو زندگی ہے خاموشی
شور سے ریزہ ریزہ ہو کر بھی
خامشی میں پڑی ہے خاموشی
چاند تب کروٹیں بدلتا ہے
بال جب کھولتی ہے خاموشی
رہا نہ کوئی خفا دیکھ کر تِرا چہرا
ملی سبھی کو شفا دیکھ کر ترا چہرا
ردیف مست ہوئی، قافیہ مچل اٹھا
غزل ہوئی ہے جدا دیکھ کر ترا چہرا
مریضِ عشق نے پائی نجات آفت سے
وہ باغ باغ ہوا دیکھ کر ترا چہرا