Showing posts with label مرتضیٰ بسمل. Show all posts
Showing posts with label مرتضیٰ بسمل. Show all posts

Monday, 4 April 2022

میرے آنگن سے گزرتی ہے نسیم جاں فزا

 میرے آنگن سے گزرتی ہے نسیمِ جاں فزا

دیکھ کر مجھ کو نکھرتی ہے نسیمِ جاں فزا

جب بھی ہوتا ہے مِرے پہلو میں وہ میرا عزیز

اس گھڑی بے حد ہی ڈرتی ہے نسیمِ جاں فزا

پردۂ خاکی میں کوئی تو ہے پنہاں دوستو

اس لیے تو مجھ پہ مرتی ہے نسیمِ جاں فزا

Wednesday, 9 March 2022

کھویا ہے تو کن خیالوں میں رقیب

 کھویا ہے تُو کن خیالوں میں رقیب

ان سیہ بالوں یا گالوں میں رقیب

ہاتھ میرا دیکھ کر ان ہاتھوں میں

پڑ گیا آخر سوالوں میں رقیب

کیا بتاؤں شہر والوں کا تمہیں

سب سے اچھا شہر والوں میں رقیب

Friday, 7 January 2022

درد ہے وحشت ہے اور دل کا عذاب

 درد ہے وحشت ہے اور دل کا عذاب

ہر طرف ظلمت ہے اور دل کا عذاب

کچھ خزانہ ہے نہیں اس کے بغیر

دیکھ لو، فرقت ہے اور دل کا عذاب

یہ اذیت ختم ہو سکتی نہیں

تا ابد آفت ہے اور دل کا عذاب

Tuesday, 28 December 2021

ٹوٹ کر پھر سے بکھر جانے کو جی چاہتا ہے

 ٹوٹ کر پھر سے بکھر جانے کو جی چاہتا ہے

اس کی دہلیز پہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

دیکھ کر آپ کی زر پاشی و ضو افشانی

آپ کے دل میں اُتر جانے کو جی چاہتا ہے

وادئ حسن میں جی لگتا نہیں ہے میرا

دوستو اس کے نگر جانے کو جی چاہتا ہے

Wednesday, 15 December 2021

روز و شب ہم نے اشکباری کی

 روز و شب ہم نے اشکباری کی

انتہا ہے یہ بے قراری کی

میرا دامن سیاہ تھا پھر بھی

اے خدا! تُو نے پاسداری کی

جانے کب کا میں مر گیا ہوتا

ان کی یادوں نے آبیاری کی

Tuesday, 14 December 2021

مجھ سے کیوں چھین لی ہے خاموشی

 مجھ سے کیوں چھین لی ہے خاموشی

میری تو زندگی ہے خاموشی

شور سے ریزہ ریزہ ہو کر بھی

خامشی میں پڑی ہے خاموشی

چاند تب کروٹیں بدلتا ہے 

بال جب کھولتی ہے خاموشی

Monday, 13 December 2021

رہا نہ کوئی خفا دیکھ کر ترا چہرہ

 رہا نہ کوئی خفا دیکھ کر تِرا چہرا 

ملی سبھی کو شفا دیکھ کر ترا چہرا 

ردیف مست ہوئی، قافیہ مچل اٹھا 

غزل ہوئی ہے جدا دیکھ کر ترا چہرا 

مریضِ عشق نے پائی نجات آفت سے 

وہ باغ باغ ہوا دیکھ کر ترا چہرا