میرے آنگن سے گزرتی ہے نسیمِ جاں فزا
دیکھ کر مجھ کو نکھرتی ہے نسیمِ جاں فزا
جب بھی ہوتا ہے مِرے پہلو میں وہ میرا عزیز
اس گھڑی بے حد ہی ڈرتی ہے نسیمِ جاں فزا
پردۂ خاکی میں کوئی تو ہے پنہاں دوستو
اس لیے تو مجھ پہ مرتی ہے نسیمِ جاں فزا
روز آتی ہے سحر کے وقت میرے حجرے میں
گِرد میرے رقص کرتی ہے نسیمِ جاں فزا
کوئی شے رہتی نہیں خالی لطافت سے یہاں
شہر میں سارے بکھرتی ہے نسیمِ جاں فزا
نام رُکنے کا نہیں لیتے ہیں یہ آنسو مِرے
جس گھڑی مجھ سے بچھڑتی ہے نسیمِ جاں فزا
ادنیٰ بسمل! کچھ نہیں ہے وہ، ہاں اتنا ہے مگر
دیکھ کر اس کو ٹھہرتی ہے نسیمِ جاں فزا
مرتضیٰ بسمل
No comments:
Post a Comment