گونجتی ہے ہوا درختوں میں
گیت ہے شام کا درختوں میں
ہم چلے تو ہمارے ساتھ آیا
دور تک راستہ درختوں میں
سبز شعلوں کو پھونک دیتی ہے
بارشوں کی ہوا درختوں میں
گونجتی ہے ہوا درختوں میں
گیت ہے شام کا درختوں میں
ہم چلے تو ہمارے ساتھ آیا
دور تک راستہ درختوں میں
سبز شعلوں کو پھونک دیتی ہے
بارشوں کی ہوا درختوں میں
تیرا رستہ بھی دیکھتا ہے بہت
تجھ سے اک شخص جو خفا ہے بہت
چاہتا تجھ سے کچھ نہیں، لیکن
دل تجھے اب بھی چاہتا ہے بہت
استعارہ نہ ہو یہ دوری کا
تُو مِرے پاس آ چکا ہے بہت
درد ہجرتوں والے
دل محبتوں والے
دن کہاں طلوع ہوں گے
سبز پتیوں والے
رنگدار کاغذ پر
لفظ حسرتوں والے
شام کے غبار میں
ہوں کسی حصار میں
زندگی گزار دوں
تیرے انتظار میں
بُھول جاؤں راستہ
میں تیرے دیار میں
اس قدر اداسی ہے
عمر بھر اداسی ہے
پھول خاک پر ہے اور
شاخ پر اداسی ہے
کچھ سفر ہے تنہائی
کچھ سفر اداسی ہے