Showing posts with label سلطنت قیصر. Show all posts
Showing posts with label سلطنت قیصر. Show all posts

Monday, 26 July 2021

گونجتی ہے ہوا درختوں میں

 گونجتی ہے ہوا درختوں میں

گیت ہے شام کا درختوں میں

ہم چلے تو ہمارے ساتھ آیا

دور تک راستہ درختوں میں

سبز شعلوں کو پھونک دیتی ہے

بارشوں کی ہوا درختوں میں

Sunday, 25 July 2021

تیرا رستہ بھی دیکھتا ہے بہت

 تیرا رستہ بھی دیکھتا ہے بہت

تجھ سے اک شخص جو خفا ہے بہت

چاہتا تجھ سے کچھ نہیں، لیکن

دل تجھے اب بھی چاہتا ہے بہت

استعارہ نہ ہو یہ دوری کا

تُو مِرے پاس آ چکا ہے بہت

Saturday, 24 July 2021

درد ہجرتوں والے دل محبتوں والے

 درد ہجرتوں والے

دل محبتوں والے

دن کہاں طلوع ہوں گے

سبز پتیوں والے

رنگدار کاغذ پر

لفظ حسرتوں والے

شام کے غبار میں ہوں کسی حصار میں

 شام کے غبار میں 

ہوں کسی حصار میں

زندگی گزار دوں

تیرے انتظار میں 

بُھول جاؤں راستہ

میں تیرے دیار میں

اس قدر اداسی ہے عمر بھر اداسی ہے

 اس قدر اداسی ہے

عمر بھر اداسی ہے

پھول خاک پر ہے اور

شاخ پر اداسی ہے

کچھ سفر ہے تنہائی

کچھ سفر اداسی ہے