بے چہرہ جسم کا نوحہ
اب تم مجھے کن آوازوں
میں ڈھونڈتے پھرتے ہو
کھڑکیاں بدلنے سے بھی
تم مجھے اپنی آنکھوں کی حقیقت نہیں بنا سکتے
آج میری روح میں اترو
بے چہرہ جسم کا نوحہ
اب تم مجھے کن آوازوں
میں ڈھونڈتے پھرتے ہو
کھڑکیاں بدلنے سے بھی
تم مجھے اپنی آنکھوں کی حقیقت نہیں بنا سکتے
آج میری روح میں اترو
قید
میری روح کا جھنڈا
ایک اداس پرندے کے ہاتھ میں ہے
جو زندگی کی سمتوں میں قید
آزادی یا موت کا منتظر ہے
اویس سجاد
میرے پاس سب کچھ ہے
سوائے نایاب ہوتے قہقہوں کے
جو میں چرا لوں گا
کسی تابوت بنانے والے سے
یا اس بوڑھے سے
جو ہمیشہ مہنگی سگریٹ پیتا ہے
خدا سے روٹھے ہوئے فرشتے
تم کب تک اپنے وجود کو
اندھی سڑکوں پر ہانکتے پھرو گے
وہ سب خدا
جو تمہیں وراثت میں ملے ہیں
کبھی تمہارے کام نہ آ سکے
خوابوں کے درمیان پڑی زندگی
وہ حکمران اعلیٰ کے جوتوں سے
اتری ہوئی مٹی کو
اپنی مٹھی میں بھینچ کر
خوش ہو جاتے ہیں
شہر کا وزیر
میں یہاں نہیں ہوں
میں نہیں جانتا
میں کون ہوں
صرف اندازے سے کہہ سکتا ہوں
ایک گالی ہوں
جسے لوگ دوسروں کے چہروں پر مل دیتے ہیں