Showing posts with label اویس سجاد. Show all posts
Showing posts with label اویس سجاد. Show all posts

Sunday, 26 February 2023

بے چہرہ جسم کا نوحہ

 بے چہرہ جسم کا نوحہ

اب تم مجھے کن آوازوں

میں ڈھونڈتے پھرتے ہو

کھڑکیاں بدلنے سے بھی

تم مجھے اپنی آنکھوں کی حقیقت نہیں بنا سکتے

آج میری روح میں اترو

Thursday, 17 March 2022

آزادی یا موت کا منتظر

 قید


میری روح کا جھنڈا

ایک اداس پرندے کے ہاتھ میں ہے

جو زندگی کی سمتوں میں قید

آزادی یا موت کا منتظر ہے 


اویس سجاد

Monday, 31 January 2022

ہو سکتا ہے میں مکمل ہو جاؤں

 میرے پاس سب کچھ ہے

سوائے نایاب ہوتے قہقہوں کے

جو میں چرا لوں گا

کسی تابوت بنانے والے سے

یا اس بوڑھے سے 

جو ہمیشہ مہنگی سگریٹ پیتا ہے

Tuesday, 4 January 2022

خدا سے روٹھے ہوئے فرشتوں کے لیے کون نظم لکھے گا

 خدا سے روٹھے ہوئے فرشتے

 

تم کب تک اپنے وجود کو

اندھی سڑکوں پر ہانکتے پھرو گے

وہ سب خدا

جو تمہیں وراثت میں ملے ہیں

کبھی تمہارے کام نہ آ سکے

Monday, 3 January 2022

اپنے خالی پن کو خوابوں سے بھر رہا ہوں

 خوابوں کے درمیان پڑی زندگی


وہ حکمران اعلیٰ کے جوتوں سے

اتری ہوئی مٹی کو

اپنی مٹھی میں بھینچ کر

خوش ہو جاتے ہیں

شہر کا وزیر

Monday, 28 June 2021

میں نہیں جانتا میں کون ہوں

میں یہاں نہیں ہوں


میں نہیں جانتا

میں کون ہوں

صرف اندازے سے کہہ سکتا ہوں

ایک گالی ہوں

جسے لوگ دوسروں کے چہروں پر مل دیتے ہیں