خدا سے روٹھے ہوئے فرشتے
تم کب تک اپنے وجود کو
اندھی سڑکوں پر ہانکتے پھرو گے
وہ سب خدا
جو تمہیں وراثت میں ملے ہیں
کبھی تمہارے کام نہ آ سکے
تمہاری سوچ کے سب دروازے
جہنم کی طرف کھلتے ہیں
تم اپنی زندگی کو
بند مٹھی میں چھپائے پھرتے ہو
کیونکہ یہ کسی وقت
تم سے چھینی جا سکتی ہے
تم اپنی آنکھوں کو
خدا کی سب سے قیمتی نعمت سمجھتے ہو
مگر تم کبھی بھی
اپنے اندر نہیں جھانک سکے
تم روز سگریٹ کا
ایک نیا کش ایجاد کرتے ہوئے
اپنی محبوبہ کے لیے نظمیں لکھتے ہو
یا اس خدا کے لیے
جو کبھی تمہاری نظمیں نہیں پڑھے گا
ان فرشتوں کے لیے
کون نظم لکھے گا؟
جو خدا سے روٹھے ہوئے
ساتویں آسمان سے بھی پرے
أنسو بہانے میں مصروف ہیں
اویس سجاد
No comments:
Post a Comment