Tuesday, 4 January 2022

خدا سے روٹھے ہوئے فرشتوں کے لیے کون نظم لکھے گا

 خدا سے روٹھے ہوئے فرشتے

 

تم کب تک اپنے وجود کو

اندھی سڑکوں پر ہانکتے پھرو گے

وہ سب خدا

جو تمہیں وراثت میں ملے ہیں

کبھی تمہارے کام نہ آ سکے

تمہاری سوچ کے سب دروازے

جہنم کی طرف کھلتے ہیں

تم اپنی زندگی کو

بند مٹھی میں چھپائے پھرتے ہو

کیونکہ یہ کسی وقت

تم سے چھینی جا سکتی ہے

تم اپنی آنکھوں کو

خدا کی سب سے قیمتی نعمت سمجھتے ہو

مگر تم کبھی بھی

اپنے اندر نہیں جھانک سکے

تم روز سگریٹ کا

ایک نیا کش ایجاد کرتے ہوئے

اپنی محبوبہ کے لیے نظمیں لکھتے ہو

یا اس خدا کے لیے

جو کبھی تمہاری نظمیں نہیں پڑھے گا

ان فرشتوں کے لیے

کون نظم لکھے گا؟

جو خدا سے روٹھے ہوئے

ساتویں آسمان سے بھی پرے

أنسو بہانے میں مصروف ہیں


اویس سجاد

No comments:

Post a Comment