طلب کے دشت میں کوئی ملال رہ گیا ہے
زقَندیں بھرتا ہوا اک غزال رہ گیا ہے
سِلے ہیں زخم مگرخون رِستا رہتا ہے
رفو گری سے مِرا اندمال رہ گیا ہے
کسی طرح سے غزل میں کمی نہیں آئے
اسے بھی نظم کرو جو خیال رہ گیا ہے
میں پل کے پل بھی تِرے بعد مسکرائی نہیں
پلک پہ اشک ہیں، دل میں ملال رہ گیا ہے
برائے دل کوئی تدبیر ہو رفو گری کی
اس آئینے میں جُدائی کا بال رہ گیا ہے
تِرے وصال کی لَو بجھ چکی ہے اور مِرا دل
چراغ خانۂ خواب و خیال رہ گیا ہے
مِرے کہے کو پذیرائی کب مِلی، شہلا
مِرا کمال، سراپا سوال رہ گیا ہے
شہلا شہناز
No comments:
Post a Comment