سمندراااااااا (سلویا پلاتھ کے لیے)
وہ کارواں
کبود رنگ کارواں بھٹک چکے ہیں
دوریوں کے پیچواں سراب میں
گھنیری شب کے باغ سے
تجھے پکارتا ہوں میں
سمندراااااااا (سلویا پلاتھ کے لیے)
وہ کارواں
کبود رنگ کارواں بھٹک چکے ہیں
دوریوں کے پیچواں سراب میں
گھنیری شب کے باغ سے
تجھے پکارتا ہوں میں
اداسی ایک لڑکی ہے
دسمبر کی گھنی راتوں میں
جب بادل برستا ہے
لرزتی خامشی
جب بال کھولے
کاریڈوروں میں سسکتی ہے
درد عروج پر آ جائے تو
آ، ری میل کچیلی
بھوکی ننگی دنیا
میں نے اک دن تیری قیمت
اک کم بیش روپے رکھی تھی
اپنے کہے پر آج بہت شرمندہ ہوں
زینے تو بس زینے ہیں
جس نے جنم کی گھٹی چکھی
اس کو زینے طے کرنا ہیں
اندر باہر
نیچے اوپر
آگے پیچھے
باتیں پاگل ہو جاتی ہیں
میری بند گلی کے گھر
بہت عجیب سے لگتے ہیں
محرابی دروازے
جیسے مالیخولیا کی بیماری میں
دھیرے دھیرے مرتے شخص کی
کیچ بھری آنکھیں ہوں
تو بھی ایسا سوچتی ہو گی
وقت نے ہم کو کس رستے پر لا ڈالا ہے
دونوں
اک ان چاہے ہمراہی کی سولی لے کر
بوجھل بوجھل پاؤں دھرتے جائیں، چلتے جائیں
تُو بھی آخر انساں ہے