Showing posts with label انوار فطرت. Show all posts
Showing posts with label انوار فطرت. Show all posts

Tuesday, 24 August 2021

وہ کارواں کبود رنگ کارواں بھٹک چکے ہیں

 سمندراااااااا (سلویا پلاتھ کے لیے)


وہ کارواں

کبود رنگ کارواں بھٹک چکے ہیں

دوریوں کے پیچواں سراب میں

گھنیری شب کے باغ سے

تجھے پکارتا ہوں میں

Friday, 25 June 2021

اداسی ایک لڑکی ہے

 اداسی ایک لڑکی ہے


دسمبر کی گھنی راتوں میں

جب بادل برستا ہے

لرزتی خامشی

جب بال کھولے

کاریڈوروں میں سسکتی ہے

Wednesday, 23 June 2021

آ ری میل کچیلی بھوکی ننگی دنیا

 درد عروج پر آ جائے تو


آ، ری میل کچیلی

بھوکی ننگی دنیا

میں نے اک دن تیری قیمت

اک کم بیش روپے رکھی تھی

اپنے کہے پر آج بہت شرمندہ ہوں

Tuesday, 22 June 2021

جس نے جنم کی گھٹی چکھی اس کو زینے طے کرنا ہیں

 زینے تو بس زینے ہیں


جس نے جنم کی گھٹی چکھی

اس کو زینے طے کرنا ہیں

اندر باہر

نیچے اوپر

آگے پیچھے

Friday, 11 December 2020

باتیں پاگل ہو جاتی ہیں

 باتیں پاگل ہو جاتی ہیں


میری بند گلی کے گھر

بہت عجیب سے لگتے ہیں

محرابی دروازے

جیسے مالیخولیا کی بیماری میں

دھیرے دھیرے مرتے شخص کی

کیچ بھری آنکھیں ہوں

Wednesday, 9 December 2020

وقت نے ہم کو کس رستے پر لا ڈالا ہے

 تو بھی ایسا سوچتی ہو گی


وقت نے ہم کو کس رستے پر لا ڈالا ہے

دونوں

اک ان چاہے ہمراہی کی سولی لے کر

بوجھل بوجھل پاؤں دھرتے جائیں، چلتے جائیں

تُو بھی آخر انساں ہے