Showing posts with label شاہد نواز. Show all posts
Showing posts with label شاہد نواز. Show all posts

Friday, 29 March 2024

دیے کی نبض تو رکنے لگی ہے

 دِیے کی نبض تو رُکنے لگی ہے

ہوا کے ساتھ بهی کافی ہوئی ہے

جرّی نے بزدلوں پر وار کر کے

بس اپنی تیغ کی توہین کی ہے

اندهیرا کر سکیں گے جس سے ہم لوگ

اب ایسی روشنی بهی آ گئی ہے

Sunday, 19 March 2023

بے نشانی سے نشانی سے بھی پہلے کے ہیں

 بے نشانی سے نشانی سے بھی پہلے کے ہیں

ہم کہ آدم کی کہانی سے بھی پہلے کے ہیں

کچھ تِرے ملنے ملانے سے بھی نِیت بدلی

کچھ بخارات تو پانی سے بھی پہلے کے پیں

اس کٹاؤ میں کناروں کا کوئی دخل نہیں

یہ تو دریا کی روانی سے بھی پہلے کے ہیں

Friday, 4 November 2022

کچھ ایسے بے خوف و بے خطر کے لیے نہیں ہیں

 کچھ ایسے بے خوف و بے خطر کے لیے نہیں ہیں 

رعایتیں تم سے ہمسفر کے لیے نہیں ہیں

کوئی سنی ان سنی بھی کرنی پڑے گی تم کو

تمام باتیں ادھر ادھر کے لیے نہیں ہیں

ہمیں نہیں چومنے دئیے تو خیال آیا

کہ پریوں کے گال جادوگر کے لیے نہیں ہیں

Tuesday, 4 October 2022

وقت پر خود ہی جان جائیں گے

وقت پر خود ہی جان جائیں گے

پہلے ہلچل نہیں مچائیں گے

ہوش میں آیا جب عدو تو اسے

ڈھال کے فائدے بتائیں گے

ہمیں تیراک مان لو، ورنہ

تھوڑے پانی میں ڈوب جائیں گے

Friday, 15 April 2022

ایسا نہیں کہ آتے ہی لاری ملی ہمیں

 ایسا نہیں کہ آتے ہی لاری ملی ہمیں

ہم دھول ہو گئے تو سواری ملی ہمیں

جانباز ہار مان چکے تھے اور اس طرف

تب جشن کا سماں تھا کہ باری ملی ہمیں

دریا میں ہاتھ پاؤں نہیں مارنے پڑے

اک لہر ایسی جاری و ساری ملی ہمیں

Sunday, 6 June 2021

میں خالی ہاتھ جو اظہار کرنا جانتا تھا

 میں خالی ہاتھ جو اظہار کرنا جانتا تھا

تُو پھول لے کے وہ انکار کرنا جانتا تھا

وہ ناؤ سے جو اگر چھیڑتا تھا دریا کو

تُو تیر کر بھی اسے پار کرنا جانتا تھا

جو شخص آیا تھا دیوار کُود کر دل میں

ڈرا ہوا تھا، مگر پیار کرنا جانتا تھا

Saturday, 21 November 2020

یہ دوست ہونے کے ناطے سے مشورہ ہے مرا

 یہ دوست ہونے کے ناطے سے مشورہ ہے مرا

اسے بھلا دے کہ اس پر دل آ گیا ہے مرا

تو کیا برائی ہے اب اس کو آزمانے میں

کہ اعتبار تو ویسے بھی اٹھ گیا ہے مرا

کچھ اس لیے میں تجھے وقت اب نہیں دیتا

مجھے گماں ہے برا وقت چل رہا ہے مرا

Friday, 20 November 2020

کہ دوسروں کا نہ منظر بگاڑ کر جانا

 کہ دوسروں کا نہ منظر بگاڑ کر جانا

نظارہ کرنا پر آنکھیں نہ گاڑ کر جانا

کسی نے رکنا نہیں پھول توڑنے سے مگر

تم اپنے باغ کے چو گِرد باڑ کر جانا

میں چاہتا ہوں وہ بے فکر ہو کے مجھ سے لڑے

مرے عدو کے عدو کو پچھاڑ کر جانا

Sunday, 15 November 2020

وار خالی بهی چلا جائے تو کیا ہوتا ہے

 وار خالی بهی چلا جائے تو کیا ہوتا ہے

تیغ اٹهانے کا بهی اک اپنا مزا ہوتا ہے

میری قسمت میں نہیں پہلی ملاقات کا رس

جس سے ملتا ہوں وہ پہلے بهی ملا ہوتا ہے

جب حوادث میں ہی کٹنا ہے محبت کا سفر

جیب میں اپنا پتہ رکهنے سے کیا ہوتا ہے

Saturday, 14 November 2020

نئے پرانے سبهی گوشوارے دیکهنے سے

 نئے پرانے سبهی گوشوارے دیکهنے سے

خسارے کم نہیں ہوں گے خسارے دیکهنے سے

سو اپنی آنکھ میں بهر کے مزید خالی کریں

خلا نے پر نہیں ہونا ہمارے دیکهنے سے

بس ایک بار تسلی سے اس کو دیکها تها

سو جان چهوٹ گئی ڈهیر سارے دیکهنے سے