دِیے کی نبض تو رُکنے لگی ہے
ہوا کے ساتھ بهی کافی ہوئی ہے
جرّی نے بزدلوں پر وار کر کے
بس اپنی تیغ کی توہین کی ہے
اندهیرا کر سکیں گے جس سے ہم لوگ
اب ایسی روشنی بهی آ گئی ہے
دِیے کی نبض تو رُکنے لگی ہے
ہوا کے ساتھ بهی کافی ہوئی ہے
جرّی نے بزدلوں پر وار کر کے
بس اپنی تیغ کی توہین کی ہے
اندهیرا کر سکیں گے جس سے ہم لوگ
اب ایسی روشنی بهی آ گئی ہے
بے نشانی سے نشانی سے بھی پہلے کے ہیں
ہم کہ آدم کی کہانی سے بھی پہلے کے ہیں
کچھ تِرے ملنے ملانے سے بھی نِیت بدلی
کچھ بخارات تو پانی سے بھی پہلے کے پیں
اس کٹاؤ میں کناروں کا کوئی دخل نہیں
یہ تو دریا کی روانی سے بھی پہلے کے ہیں
کچھ ایسے بے خوف و بے خطر کے لیے نہیں ہیں
رعایتیں تم سے ہمسفر کے لیے نہیں ہیں
کوئی سنی ان سنی بھی کرنی پڑے گی تم کو
تمام باتیں ادھر ادھر کے لیے نہیں ہیں
ہمیں نہیں چومنے دئیے تو خیال آیا
کہ پریوں کے گال جادوگر کے لیے نہیں ہیں
وقت پر خود ہی جان جائیں گے
پہلے ہلچل نہیں مچائیں گے
ہوش میں آیا جب عدو تو اسے
ڈھال کے فائدے بتائیں گے
ہمیں تیراک مان لو، ورنہ
تھوڑے پانی میں ڈوب جائیں گے
ایسا نہیں کہ آتے ہی لاری ملی ہمیں
ہم دھول ہو گئے تو سواری ملی ہمیں
جانباز ہار مان چکے تھے اور اس طرف
تب جشن کا سماں تھا کہ باری ملی ہمیں
دریا میں ہاتھ پاؤں نہیں مارنے پڑے
اک لہر ایسی جاری و ساری ملی ہمیں
میں خالی ہاتھ جو اظہار کرنا جانتا تھا
تُو پھول لے کے وہ انکار کرنا جانتا تھا
وہ ناؤ سے جو اگر چھیڑتا تھا دریا کو
تُو تیر کر بھی اسے پار کرنا جانتا تھا
جو شخص آیا تھا دیوار کُود کر دل میں
ڈرا ہوا تھا، مگر پیار کرنا جانتا تھا
یہ دوست ہونے کے ناطے سے مشورہ ہے مرا
اسے بھلا دے کہ اس پر دل آ گیا ہے مرا
تو کیا برائی ہے اب اس کو آزمانے میں
کہ اعتبار تو ویسے بھی اٹھ گیا ہے مرا
کچھ اس لیے میں تجھے وقت اب نہیں دیتا
مجھے گماں ہے برا وقت چل رہا ہے مرا
کہ دوسروں کا نہ منظر بگاڑ کر جانا
نظارہ کرنا پر آنکھیں نہ گاڑ کر جانا
کسی نے رکنا نہیں پھول توڑنے سے مگر
تم اپنے باغ کے چو گِرد باڑ کر جانا
میں چاہتا ہوں وہ بے فکر ہو کے مجھ سے لڑے
مرے عدو کے عدو کو پچھاڑ کر جانا
وار خالی بهی چلا جائے تو کیا ہوتا ہے
تیغ اٹهانے کا بهی اک اپنا مزا ہوتا ہے
میری قسمت میں نہیں پہلی ملاقات کا رس
جس سے ملتا ہوں وہ پہلے بهی ملا ہوتا ہے
جب حوادث میں ہی کٹنا ہے محبت کا سفر
جیب میں اپنا پتہ رکهنے سے کیا ہوتا ہے
نئے پرانے سبهی گوشوارے دیکهنے سے
خسارے کم نہیں ہوں گے خسارے دیکهنے سے
سو اپنی آنکھ میں بهر کے مزید خالی کریں
خلا نے پر نہیں ہونا ہمارے دیکهنے سے
بس ایک بار تسلی سے اس کو دیکها تها
سو جان چهوٹ گئی ڈهیر سارے دیکهنے سے