نئے پرانے سبهی گوشوارے دیکهنے سے
خسارے کم نہیں ہوں گے خسارے دیکهنے سے
سو اپنی آنکھ میں بهر کے مزید خالی کریں
خلا نے پر نہیں ہونا ہمارے دیکهنے سے
بس ایک بار تسلی سے اس کو دیکها تها
سو جان چهوٹ گئی ڈهیر سارے دیکهنے سے
بہت ہی گہرا کوئی خالی پن ہے آنکهوں میں
یہ جانے والا نہیں ہے تمہارے دیکهنے سے
ہمارے رستے کو شرمندگی سے دیکهتے ہیں
جو سمت بهول گئے ہیں ستارے دیکهنے سے
شاہد نواز
No comments:
Post a Comment