Saturday, 14 November 2020

یاد کے شہر بے نشان سے دور

 یاد کے شہر بے نشان سے دور

دھوپ نکلی ہے خاکدان سے دور

وہ ستارہ عیاں ہوا، لیکن

پھر ہوا میرے آسمان سے دور

تیرے پروانے جل بجھے شب بھر

شمع سے دور شمع دان سے دور

پھول اور تتلیاں رہیں میرے

واہموں سے بھرے مکان سے دور

تجھ کو اک پھول دینے آیا ہوں

جو کھِلا تھا ترے گمان سے دور


رضوان فاخر

No comments:

Post a Comment