یاد کے شہر بے نشان سے دور
دھوپ نکلی ہے خاکدان سے دور
وہ ستارہ عیاں ہوا، لیکن
پھر ہوا میرے آسمان سے دور
تیرے پروانے جل بجھے شب بھر
شمع سے دور شمع دان سے دور
پھول اور تتلیاں رہیں میرے
واہموں سے بھرے مکان سے دور
تجھ کو اک پھول دینے آیا ہوں
جو کھِلا تھا ترے گمان سے دور
رضوان فاخر
No comments:
Post a Comment