تو کیا جنوں کو سدا کا فراغ پیش کریں
کہا گیا ہے کہ صحرا کو باغ پیش کریں
ہم ایسے وقت میں گزرے جو وقت تھا ہی نہیں
تو کس حوالے سے اپنا سراغ پیش کریں
مباہلہ کی یہ صورت اگر قبول کرو
ہوا کے سامنے آؤ چراغ پیش کریں
ہر ایک گام پہ درکار ہیں عمل نامے
کہاں جبیں تو کہاں دل کے داغ پیش کریں
ہم ایسے خام نصیبوں کے پاس مے تو نہیں
اگر کہو تو لہو کے ایاغ پیش کریں
ادب ہے روبہ تنزل تو پھر ادب کے حضور
جو واقعی میں بڑے ہیں دماغ پیش کریں
مدثر عباس
No comments:
Post a Comment