Saturday, 14 November 2020

کہا گیا ہے کہ صحرا کو باغ پیش کریں

 تو کیا جنوں کو سدا کا فراغ پیش کریں

کہا گیا ہے کہ صحرا کو باغ پیش کریں

ہم ایسے وقت میں گزرے جو وقت تھا ہی نہیں

تو کس حوالے سے اپنا سراغ پیش کریں

مباہلہ کی یہ صورت اگر قبول کرو

ہوا کے سامنے آؤ چراغ پیش کریں

ہر ایک گام پہ درکار ہیں عمل نامے

کہاں جبیں تو کہاں دل کے داغ پیش کریں

ہم ایسے خام نصیبوں کے پاس مے تو نہیں

اگر کہو تو لہو کے ایاغ پیش کریں

ادب ہے روبہ تنزل تو پھر ادب کے حضور

جو واقعی میں بڑے ہیں دماغ پیش کریں


مدثر عباس

No comments:

Post a Comment