میرے مہتاب تمنا
اے مرے ماہ تمام
میری پلکوں پہ دعا جلتی ہے اک مدت سے
میری حسرت نے کبھی سو کے نہیں دیکھا ہے
تیری محفل میں ستاروں کو جگہ حاصل ہے
یعنی بس روشنی والوں کو ہی
کچھ اور جلا حاصل ہے
رنگ اور نور سے مہکی تیری محفل کی طرف
دیکھ کر رشک سے آنکھوں میں نمی جلتی ہے
اپنی قسمت کے ستاروں کی کمی کھلتی ہے
ایسے عالم میں اجالوں سے میں گھبراتی ہوں
آنکھ سے لے کے میری روح تلک بجھ جاتی ہوں
کنول حسین
No comments:
Post a Comment