جسم کا بوجھ اٹھائے ہوئے چلتے رہیے
دھوپ میں برف کی مانند پگھلتے رہیے
یہ تبسم تو ہے چہروں کی سجاوٹ کے لیے
ورنہ احساس وہ دوزخ ہے کہ جلتے رہیے
اب تھکن پاؤں کی زنجیر بنی جاتی ہے
راہ کا خوف یہ کہتا ہے; کہ چلتے رہیے
جسم کا بوجھ اٹھائے ہوئے چلتے رہیے
دھوپ میں برف کی مانند پگھلتے رہیے
یہ تبسم تو ہے چہروں کی سجاوٹ کے لیے
ورنہ احساس وہ دوزخ ہے کہ جلتے رہیے
اب تھکن پاؤں کی زنجیر بنی جاتی ہے
راہ کا خوف یہ کہتا ہے; کہ چلتے رہیے
اس کی باتیں تو پھول ہوں جیسے
باقی باتیں ببول ہوں جیسے
چھوٹی چھوٹی سی اس کی وہ آنکھیں
دو چنبیلی کے پھول ہوں جیسے
اس کا ہنس کر نظر جھکا لینا
ساری شرطیں قبول ہوں جیسے