Showing posts with label معراج فیض آبادی. Show all posts
Showing posts with label معراج فیض آبادی. Show all posts

Tuesday, 19 September 2023

جسم کا بوجھ اٹھائے ہوئے چلتے رہیے

 جسم کا بوجھ اٹھائے ہوئے چلتے رہیے

دھوپ میں برف کی مانند پگھلتے رہیے

یہ تبسم تو ہے چہروں کی سجاوٹ کے لیے

ورنہ احساس وہ دوزخ ہے کہ جلتے رہیے

اب تھکن پاؤں کی زنجیر بنی جاتی ہے

راہ کا خوف یہ کہتا ہے; کہ چلتے رہیے

Sunday, 4 October 2020

اس کی باتیں تو پھول ہوں جیسے‬

 اس کی باتیں تو پھول ہوں جیسے‬

‫باقی باتیں ببول ہوں جیسے

‫چھوٹی چھوٹی سی اس کی وہ آنکھیں‬

‫دو چنبیلی کے پھول ہوں جیسے‬

اس کا ہنس کر نظر جھکا لینا‬

‫ساری شرطیں قبول ہوں جیسے‬

Sunday, 14 June 2020

بکھرے بکھرے سہمے سہمے روز و شب دیکھے گا کون

بکھرے بکھرے سہمے سہمے روز و شب دیکھے گا کون
لوگ تیرے جرم دیکھیں گے، سبب دیکھے گا کون
ہاتھ میں سونے کا کاسہ لے کے آئے ہیں فقیر
اس نمائش میں تِرا دستِ طلب دیکھے گا کون
لا! اٹھا تیشہ، چٹانوں سے کوئی چشمہ نکال
سب یہاں پیاسے ہیں تیرے خشک لب دیکھے گا کون

اسی تھکے ہوئے دستِ طلب سے مانگتے ہیں

اسی تھکے ہوئے دستِ طلب سے مانگتے ہیں
جو مانگتے نہیں رب سے، وہ سب سے مانگتے ہیں
وہ بھیک مانگتا ہے حاکموں کے لہجوں میں
ہم اپنے بچوں کا حق بھی ادب سے مانگتے ہیں
میرے خدا انہیں توفیقِ خودشناسی دے
چراغ ہو کہ اجالا جو شب سے مانگتے ہیں

Monday, 5 December 2016

اے یقینوں کے خدا شہر گماں کس کا ہے

اے یقینوں کے خدا! شہرِ گماں کس کا ہے
نور تیرا ہے چراغوں میں دھواں کس کا ہے
کیا یہ موسم تِرے قانون کے پابند نہیں؟
موسمِ گل میں یہ دستورِ خزاں کس کا ہے
راکھ کے شہر میں ایک ایک سے میں پوچھتا ہوں
یہ جو محفوظ ہے اب تک، یہ مکاں کس کا ہے

زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا

زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا
پاؤں بخشے ہیں تو توفیقِ سفر بھی دینا
گفتگو تُو نے سکھائی ہے کہ میں گونگا تھا
اب جو بولوں گا تو باتوں میں اثر بھی دینا
میں تو اس خانہ بدوشی میں بھی خوش ہوں لیکن
اگلی نسلیں تو نہ بھٹکیں، انہیں گھر بھی دینا

Sunday, 27 November 2016

تھکی ہوئی مامتا کی قیمت لگا رہے ہیں

تھکی ہوئی مامتا کی قیمت لگا رہے ہیں
امیر بیٹے دعا کی قیمت لگا رہے ہیں
میں جن کو انگلی پکڑ کے چلنا سکھا چکا ہوں
وہ آج میرے عصا کی قیمت لگا رہے ہیں
مِری ضرورت نے فن کو نیلام کر دیا ہے
تو لوگ میری انا کی قیمت لگا رہے ہیں

چراغ اپنی تھکن کی کوئی صفائی نہ دے

چراغ اپنی تھکن کی کوئی صفائی نہ دے
وہ تیرگی ہے کہ اب خواب تک دکھائی نہ دے
بہت ستاتے ہیں رشتے جو ٹوٹ جاتے ہیں
خدا کسی کو بھی توفیقِ آشنائی نہ دے
میں ساری عمر اندھیروں میں کاٹ سکتا ہوں
میرے دِیوں کو مگر روشنی پرائی نہ دے

ہم غزل میں ترا چرچا نہیں ہونے دیتے

ہم غزل میں تِرا چرچا نہیں ہونے دیتے
تیری یادوں کو بھی رسوا نہیں ہونے دیتے​
کچھ تو ہم خود بھی نہیں چاہتے شہرت اپنی
اور کچھ لوگ بھی ایسا نہیں ہونے دیتے​
عظمتیں اپنے چراغوں کی بچانے کے لیے
ہم کسی گھر میں اجالا نہیں ہونے دیتے​

Sunday, 13 November 2016

اے دشت آرزو مجھے منزل کی آس دے

اے دشتِ آرزو مجھے منزل کی آس دے
میری تھکن کو گردِ سفر کا لباس دے
پروردگار تُو نے سمندر تو دے دئیے
اب میرے خشک ہونٹوں کو صحرا کی پیاس دے
فرصت کہاں کہ ذہن مسائل سے لڑ سکیں
اس نسل کو کتاب نہ دے، اقتباس دے

بے خواب ساعتوں کا پرستار کون ہے

بے خواب ساعتوں کا پرستار کون ہے
اتنی اداس رات میں بیدار کون ہے
کس کو یہ فکر ہے کہ قبیلے کو کیا ہوا
سب اس پہ لڑ رہے ہیں کہ سردار کون ہے
دیوار پر سجا تو دیئے باغیوں کے سر
ان یہ بھی دیکھ لو کہ پسِ دیوار کون ہے

یہ دنیا عالم وحشت میں کیا کیا چھوڑ دیتی ہے

یہ دنیا عالمِ وحشت میں کیا کیا چھوڑ دیتی ہے
سمندر کی محبت میں کنارہ چھوڑ دیتی ہے
بھروسہ کیا کریں اس زندگی کا، یہ تو انساں کو
فنا کی وادیوں میں لا کے تنہا چھوڑ دیتی ہے
خدا محفوظ رکھے ایسی مجبوری سے ہم سب کو
جو مجبوری پڑوسی کا جنازہ چھوڑ دیتی ہے

Tuesday, 25 October 2016

ایک ٹوٹی ہوئی زنجیر کی فریاد ہیں ہم

ایک ٹوٹی ہوئی زنجیر کی فریاد ہیں ہم
اور دنیا یہ سمجھتی ہے کہ آزاد ہیں ہم
کیوں ہمیں لوگ سمجھتے ہیں یہاں پردیسی
ایک مدت سے اسی شہر میں آباد ہیں ہم
کاہے کا ترکِ وطن، کاہے کی ہجرت بابا
اسی دھرتی کی، اسی دیش کی اولاد ہیں ہم

بڑھ گیا تھا پیاس کا احساس دریا دیکھ کر

بڑھ گیا تھا پیاس کا احساس دریا دیکھ کر
ہم پلٹ آئے مگر پانی کو پیاسا دیکھ کر
ہم بھی ہیں شاید کسی بھٹکی ہوئی کشتی کے لوگ
چیخنے لگتے ہیں خوابوں میں جزیرہ دیکھ کر
جس کی جتنی حیثیت ہے اس کے نام اتنا خلوص
بھیک دیتے ہیں یہاں کے لوگ کاسا دیکھ کر

تیرے بارے میں جب سوچا نہیں تھا

تیرے بارے میں جب سوچا نہیں تھا
میں تنہا تھا، مگر اتنا نہیں تھا
تیری تصویر سے کرتا تھا باتیں
میرے کمرے میں آئینہ نہیں تھا
سمندر نے مجھے پیاسا ہی رکھا
میں جب صحرا میں تھا پیاسا نہیں تھا