اک بڑے خواب کی فریاد بھی ہو سکتی ہے
زندگی موت سے آزاد بھی ہو سکتی ہے
پیاس اک پیاس جسے ماں کی دُعا ملتی پے
شہرِ مکٌہ کی وہ بُنیاد بھی ہو سکتی ہے
تُو مکمل سی کمی ہے کہ محبت ہے؟
یا فقیری کی یہ رُوداد بھی ہو سکتی ہے؟
عشق تو راکھ کو رنگوں میں بدل دیتا ہے
وہ پری زاد، زمیں زاد بھی ہو سکتی ہے
میں جو کپاس کے پھولوں میں مگن رہتا ہوں
یہ اَگَن سلسلۂ فرہاد بھی ہو سکتی ہے
جام در جام ہیں آنکھوں میں سُلگتے ڈورے
یہ تیری چاپ کی اک یاد بھی ہو سکتی ہے
چاند کے پاؤں کی زنجیر تو کاٹو حیدر
یہ زمیں رات سے آزاد بھی ہو سکتی ہے
نجم الحسنین حیدر
No comments:
Post a Comment