Wednesday, 9 September 2026

رفتہ رفتہ بن نہ جائے پیار افسانہ ترا

 رفتہ رفتہ بن نہ جائے پیار افسانہ ترا

دیکھ کر کہتے ہیں مجھ کو لوگ دیوانہ ترا

شمع کی لو پر ہی جل جانا جسے مقصود ہے

وہ کہیں کیوں جاں بچائے ہٹ کے پروانہ ترا

ہم ترے در سے چلے جائیں گے اک دن نا مراد

کیا کہے گا پھر تجھے ہر اپنا بیگانہ ترا

پیار کی اک نیند میٹھی اپنی آنکھوں میں لئے

بیٹھے بیٹھے دیکھتا ہے خواب دیوانہ ترا

پھر کسی کے کام آئے یہ تو اس قابل نہیں

رہ گیا ہے بن کے عالم دل یہ کاشانہ ترا


عالم بریلوی

مقصود عالم خاں

No comments:

Post a Comment