رفتہ رفتہ بن نہ جائے پیار افسانہ ترا
دیکھ کر کہتے ہیں مجھ کو لوگ دیوانہ ترا
شمع کی لو پر ہی جل جانا جسے مقصود ہے
وہ کہیں کیوں جاں بچائے ہٹ کے پروانہ ترا
ہم ترے در سے چلے جائیں گے اک دن نا مراد
کیا کہے گا پھر تجھے ہر اپنا بیگانہ ترا
پیار کی اک نیند میٹھی اپنی آنکھوں میں لئے
بیٹھے بیٹھے دیکھتا ہے خواب دیوانہ ترا
پھر کسی کے کام آئے یہ تو اس قابل نہیں
رہ گیا ہے بن کے عالم دل یہ کاشانہ ترا
عالم بریلوی
مقصود عالم خاں
No comments:
Post a Comment