Tuesday, 8 September 2026

سنورتی آنکھ میں کاجل نہیں ہے

 سنورتی آنکھ میں کاجل نہیں ہے

تمنّا آج کیوں چنچل نہیں ہے

اُترتے ہیں بھنور دل میں ہزاروں

لبوں پر تو کوئی ہلچل نہیں ہے

حرِیر و پرنیاں والوں سے یہ کہنا

غریبوں کے لیے آنچل نہیں ہے

صدی کیا بیسویں، اکیسویں کیا

برس گُزرے خُوشی کا پل نہیں ہے

تباہی، مُفلسی، بیماریاں بھی

ہزاروں مسئلے ہیں، حل نہیں ہے

جہاں والو! ذرا اب تو بتانا؟

جگہ ایسی جہاں مقتل نہیں ہے

بدلتی رُت سلامت ہے ہمیشہ

"یہاں جو آج ہے وہ کل نہیں ہے"


ڈاکٹر صغریٰ عالم

No comments:

Post a Comment