Showing posts with label امیر خسرو. Show all posts
Showing posts with label امیر خسرو. Show all posts

Tuesday, 23 April 2024

تیرا خوبصورت چہرہ چاند کی طرح چمکتا ہے

 بہ خوبی ہمچومہ تابندہ باشی

بہ ملک دلبری پاینده باشی

تیرا خوبصورت چہرہ چاند کی طرح چمکتا ہے 

ملک حسن پہ تیری بادشاہی سلامت رہے

من درویش را کشتی بہ غمزہ

کرم کردى الٰہی زندہ باشی

Friday, 12 April 2024

مجھے خبر ملی ہے کہ اے محبوب آج رات تو آئے گا

 خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد

سرِ مَن فدائے راہے کہ سوار خواہی آمد

مجھے خبر ملی ہے کہ اے محبوب! آج رات تُو آئے گا 

میرا سر اس راہ پر قربان، جس راہ پر تو سوار ہو کر آئے گا

غم و قصۂ فراقت، بکُشد چنان کہ دانم

اگرم چو بخت روزے، بہ کنار خواہی آمد

Friday, 30 June 2023

میں تجھ سے دوستی اور محبت رکھتا ہوں

 دلبرا، عمریست تا من دوست می دارم ترا

در غمت می سوزم و گفتن نمی یارم ترا

اے میرے معشوق! ایک عمر گزر گئی ہے کہ میں تجھ سے دوستی اور محبت رکھتا ہوں

تیرے غم میں جلتا رہتا ہوں لیکن مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ میں تجھ سے یہ بات کہہ سکوں

وای بر من کز غمت می میرم و جان می دهم

واگهی نیست از دل افگار بیمارم ترا

Wednesday, 13 July 2022

میں نے کہا کہ چاند ہے اس نے کہا چہرہ مرا

 گفتم کہ روشن از قمر گفتا کہ رخسار منست

گفتم کہ شیریں از شکر گفتا کہ گفتار منست

میں نے کہا کہ چاند ہے اس نے کہا چہرہ مرا

میں نے کہا شیرین دہن اس نے کہا لہجہ مرا

گفتم طریق عاشقان گفتا وفاداری بود

گفتم مکن جور و جفا، گفتا کہ این کار منست

Thursday, 23 June 2022

ہر رات میں تیرے آستانے کے پاس پڑا رہتا ہوں

 ہر شب منم فتادہ بہ گرد سرای تو

تار روز آہ و نالہ کنم از برای تو

ہر رات میں تیرے آستانے کے پاس پڑا رہتا ہوں

اور صبح تک تیرے غم میں آہ و زاری کرتا رہتا ہوں

روزے کہ ذرہ ذرہ شود استحوان من

باشد ہنوز در دل تنگم ہوای تو

Wednesday, 8 June 2022

ابر روتا ہے ہوا مجھ سے مرا یار جدا

 ابر می بارد و من می شوم از یار جدا

چون کنم دل بہ چنین روز ز دلدار جدا

ابر روتا ہے، ہُوا مجھ سے مِرا یار جدا

دل سے ایسے میں کروں کیسے میں دلدار جدا

ابر باران و من و یار ستادہ بوداع

من جدا گریہ کناں، ابر جدا، یار جدا

Tuesday, 7 June 2022

خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد

 خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد

سرِ من فدائے راہے کہ سوار خواہی آمد

ملا ہے رات یہ مژدہ کہ یار آئے گا

فدا ہوں راہ پہ جس سے سوار آئے گا

ہمہ آہوانِ صحرا سرِ خود نہادہ بر کف

بہ امید آنکہ روزے بشکار خواہی آمد

Monday, 6 June 2022

نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم

 نمی دانم چہ منزل بود، شب جائے کہ من بودم

بہ ہر سُو رقصِ بسمل بود، شب جائے کہ من بودم

نہیں معلوم تھی کیسی وہ منزل، شب جہاں میں تھا

ہر اک جانب بپا تھا رقصِ بسمل، شب جہاں میں تھا

پری پیکر نگارے، سرو قدے، لالہ رخسارے

سراپا آفتِ دل بود، شب جائے کہ من بودم

Friday, 18 June 2021

لاگے رے نین تم سے پیا مورے مکمل

 لاگے رے نین تم سے پیا مورے

گھڑی پلِٹن نہ ہی چین پڑت ہے

لاگے رے نین تم سے پیا مورے


جب سے پیا پردیس گیؤ رے

دیکھی صورتیا دیر بھیؤ رے

بنتی کرت ہوں میں پیاں پڑت ہوں

Monday, 17 August 2020

یہ رنگینی نو بہار اللہ اللہ

 امیر خسرو کی فارسی غزل کا اردو ترجمہ


یہ رنگینئ نوبہار، اللہ اللہ

یہ جامِ مئے خوشگوار، اللہ اللہ

اُدھر ہیں نظر میں نظارے چمن کے

اِدھر روبرو رُوئے یار، اللہ اللہ

اُدھر جلوۂ مضطرب، توبہ توبہ

اِدھر یہ دلِ 💗 بے قرار، اللہ اللہ

Monday, 5 December 2016

سب سکھیوں میں چادر میری میلی

سب سکھیوں میں چادر میری میلی
دیکھیں ہنس ہنس ناری
اب کے بہار چادر میری رنگ دے
پیا رکھ لے لاج ہماری
صدقہ بابا گنج شکر کا
رکھ لے لاج ہماری

کاہے کو بیاہی بدیس رے لکھی بابل مورے

کاہے کو بیاہی بدیس رے لکھی بابل مورے
کاہے کو بیاہی بدیس
بھئیا کو دیۓ محل دو محلے ہم کو دیا پردیس
کاہے کو بیاہی بدیس، رے بابل
کاہے کو بیاہی بدیس
ہم تو ہیں بابل تیرے کھونٹے کی گئیاں
جد ہانکے، ہنک جائیں

وہ آوے تب شادی ہووے

پہیلی

وہ آوے تب شادی ہووے
اس بِن دُوجا اور نہ کوئے
میٹھے لاگیں وا کے بول
اے سکھی ساجن 
نا سکھی ڈھول

امیر خسرو

آپ ہلے اور موہے ہلاوے

پہیلی

آپ ہِلے اور موہے ہلاوے
وا کا ہلنا مورے من بھاوے
ہِل ہِل کے وہ ہُوا نسنکھا
اے سکھی ساجن 
نا سکھی پنکھا

امیر خسرو

Monday, 21 November 2016

موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ دے

موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ دے
تُو تو صاحب میرا محبوب الہٰی
موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ دے

ہمری چنریا، پیا کی پگریا
وہ تو دونوں بسنتی رنگ دے

جو تُو مانگے رنگ کی رنگائی
مورا جوبن گِروی رکھ لے

بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی

بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی
کیسے بھر لاؤں متھرا سے مٹکی
میں جو گئی تھی پنیا بھرن کو
دوڑ، جھپٹ، موری مٹکی پٹکی
بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی
کیسے بھر لاؤں متھرا سے مٹکی

میں تو پیا سے نیناں لڑا آئی رے

میں تو پیا سے نیناں لڑا آئی رے
میں تو پیا سے نیناں لڑا آئی رے
گھر ناری کنواری کہے سو کرے
میں تو پیا سے نیناں لڑا آئی رے
سوہنی صُورتیا، موہنی مُورتیا
میں تو ہِردے کے پیچھے سما آئی رے

ز حال مسکیں مکن تغافل درائے نیناں بنائے بتیاں

ز حالِ مسکیں مکن تغافل درائے نیناں بنائے بتیاں
کہ تابِ ہجراں ندارم اے جاں نہ لے ہو کاہے لگائے چھتیاں
شبانِ ہجراں دراز چوں زلف و روزِ وصلت چوں عمرِ کوتاہ
سکھی! پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم ببردِ تسکیں
کسے پڑی ہے جو جا سناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں

Friday, 11 April 2014

سرسوں پھول بنی اور کوئل کوکت راگ ملھار

سرسوں پھول بنی اور کوئل کوکت راگ ملھار
ناریاں جھولے ڈال کے دیکھت ہیں ساون کی دھار
جَل بِن ماہی جیسی بِرہن تھی کاٹت بَن واس
اب تو ہریالی ہووت ہے مَن کی اِک اِک آس
بدلی کی ڈولی کی چلمن جب اٹھ جاوت ہے
امبر بھی ایسے جلوؤں کی تاب نہ لاوت ہے

Thursday, 12 December 2013

جب یار دیکھا نین پھر دل کی گئی چنتا اتر

جب یار دیکھا نین پھر دل کی گئی چِنتا اتر
ایسا نہیں کوئی عجب، راکھے اسے سمجھائے کر
جب آنکھ سے اوجھل بھیا، تڑپن لگا میرا جِیا
حقّا الٰہی کیا کِیا، آنسو چلے بھر لائے کر
توں تو ہمارا یار ہے، تجھ پر ہمارا پیار ہے
تجھ دوستی بسیار ہے، اِک شب مِلو تم آئے کر