Tuesday, 7 June 2022

خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد

 خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد

سرِ من فدائے راہے کہ سوار خواہی آمد

ملا ہے رات یہ مژدہ کہ یار آئے گا

فدا ہوں راہ پہ جس سے سوار آئے گا

ہمہ آہوانِ صحرا سرِ خود نہادہ بر کف

بہ امید آنکہ روزے بشکار خواہی آمد

غزالِ دشت، ہتھیلی پہ سر لیے ہوں گے

اس آس پر کہ تو بہرِ شکار آئے گا

کششے کہ عشق دارد نہ گزاردت بدینساں

بجنازہ گر نیائی بہ مزار خواہی آمد

کشش جو عشق میں ہے، بے اثر نہیں ہو گی

جنازہ پر نہ سہی، بر مزار آئے گا

بہ لبم رسیدہ جانم تو بیا کہ زندہ مانم

پس ازاں کہ من نمانم بہ چہ کار خواہی آمد

لبوں پہ جان ہے، تُو آئے تو رہوں زندہ

رہا نہ میں، تو مجھے کیا کہ یار آئے گا

بیک آمدن ربودی دل و دین و جانِ خسرو

چہ شود اگر بدینساں دو سہ بار خواہی آمد

فدا کئے دل و دیں اک جھلک پر خسرو نے

کرے گا کیا جو تُو دو تین بار آئے گا


شاعری امیر خسرو

منظوم اردو ترجمہ مسعود قریشی

No comments:

Post a Comment